سعودی عرب: "آڈر ڈیلیوری" سے متعلق ریگولیٹری فیصلوں کا 24 گھنٹوں میں نفاذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی طرف سے ڈیلیوری سیکٹر کے حوالے سے جاری کردہ ریگولیٹری فیصلے پیر سے یعنی اعلان کے 24 گھنٹوں کے اندر نافذ ہونا شروع ہو جائیں گے۔اتھارٹی ان فیصلوں کے ذریعے سیکٹر کی گورننس کو کنٹرول کرنے اور ڈرائیوروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔

فیصلوں میں غیر سعودیوں کو 14 ماہ کے اندر ہلکی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ذریعے بتدریج کام کرنے کا پابند بنانا، اس کے علاوہ ان صلاحیتوں کو نافذ کرنا جس میں وزارت بلدیات اور دیہی امور اور ہاؤسنگ کے ساتھ مل کر ہلکی ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر اشتہارات کی اجازت دینا شامل ہے۔

جنرل ٹریفک ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر آرڈر کی ترسیل کی سرگرمیوں میں موٹرسائیکلوں کے استعمال کے کنٹرول کا تعین کرنے کے علاوہ اس سرگرمی میں کام کرنے والی کمپنیوں کو پابند کرنا کہ وہ اپنے ڈرائیوروں کے لیے براہ راست جنرل اتھارٹی فار ٹرانسپورٹ سے منسلک نظام کے ذریعے چہرے کی تصدیق کی خصوصیت کو نافذ کریں۔ فیصلوں میں آرڈر ڈیلیوری سرگرمی میں کام کرنے والے غیر سعودیوں کے لیے یونیفارم پہننا بھی شامل ہے۔

اتھارٹی نے فیصلوں کا یہ پیکیج ان ڈرائیوروں کی جانب سے کی جانے والی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد جاری کیا ہےجن میں سے اکثر رہائش اور کام کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

اتھارٹی نے کہا کہ آرڈر ڈیلیوری سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے کے لیے فیصلوں پر عمل درآمد کو بتدریج مراحل میں آگے بڑھایا جائے گا کیونکہ یہ لائٹ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ذریعے غیر سعودی ڈرائیوروں کو آرڈرز کی ترسیل کو چالو کرنا شروع کر دے گا، جبکہ شہریوں کے لیے خود روزگار کی اجازت دے گا اور بتدریج غیر سعودی ڈرائیوروں کو آرڈر کی فراہمی کو روکے گا۔

اتھارٹی نے کہا کہ ان فیصلوں کا مقصد پوری طرح سے آرڈر کی فراہمی کے شعبے کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا اور اس پر کنٹرول کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سعودیوں کو اس سرگرمی میں کام کرنے کی ترغیب دینا، ملازمت کے مواقع میں اضافہ کرنا اور اس شعبے میں فراہم کی جانے والی خدمات کو مزید ترقی دینا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں