غزہ کی دندان ساز کا جنگ کے دوران خیموں میں کام جاری

غزہ کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر، کوئی بھی ہسپتال مکمل فعال نہیں: اقوامِ متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں ماہرِ امراضِ دنداں نجدہ صقر کی نئی سرجری کسی بھی دوسری سرجری کی طرح ہے سوائے اس کے کہ یہ ایک خیمے میں ہے اور انہیں باہر جنگ کی آوازوں کے درمیان اپنی بات سنانے کے لیے بآوازِ بلند بولنا پڑتا ہے۔

انہوں نے اپنے مریضوں کو یقین دلانے کے لیے اپنی تمام پیشہ ورانہ اسناد دیوار پر لگا رکھی ہیں۔ اور ان کا سامانِ جراحت جدید ترین ہے حالانکہ وہ ریت پر پلاسٹک کی چادر پر بیٹھے ہیں۔

32 سالہ صقر نے کہا کہ ان کو جنگ کے اوائل میں وسطی غزہ میں نصیرات میں اپنی اصل سرجری کو ترک کرنا پڑا جب اسرائیلی حملوں میں "وہ علاقہ متعدد بار نشانہ بنا جس سے میرے کلینک کو شدید نقصان پہنچا۔"

دھماکوں نے زیادہ تر اندرونی حصہ تباہ کر دیا اور دانتوں کے ڈاکٹر نے اپنے ٹیبلٹ پر اے ایف پی کو دکھایا کہ سٹیل کا دروازہ بھی دھماکہ خیز مواد کے ٹکڑوں سے کیسے چھلنی ہو گیا تھا۔

لیکن جنگ اب بھی جاری ہے اور غزہ کا صحت کا نظام تباہ ہو رہا ہے تو صقر واپس آ گئے تاکہ دانتوں کے درد کے ساتھ آنے والے لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر سکیں۔

انہوں نے کہا، "زیادہ تر دانتوں کے ڈاکٹر یا تو چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے یا ان کے کلینک کو نقصان پہنچا تھا اس لیے مجھے ایک عارضی کلینک قائم کرنے کا خیال آیا۔"

"میں اپنے کلینک گیا اور اپنی ڈینٹسٹ کی کرسی اور دیگر سامان واپس لینے میں کامیاب ہو گیا اور خیمہ لگانے سے پہلے انہیں رکشے میں یہاں پہنچایا۔"

نصیرات میں اپنے متبادل کلینک کے باہر ہونے والی لڑائی کے باوجود صقر صبر و ضبط سے کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے زیرِ علاج ایک نوجوان لڑکے کو پرسکون کیا جبکہ سر پر اڑتے ایک ڈرون کی آواز ان کی آواز کو دبا رہی تھی۔

انہوں نے کہا، "سب سے بڑی رکاوٹیں بجلی، پانی اور دانتوں کے آلات کی کمی ہیں جو دستیاب نہیں ہیں۔ اور اگر دستیاب ہیں بھی تو مہنگے بہت ہیں۔"

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر ہے اور گذشتہ دو ماہ سے اس کا کوئی بھی ہسپتال مکمل طور پر کام نہیں کر رہا۔

ان میں سے کچھ کے اردگرد کئی ہفتوں سے شدید لڑائی جاری ہے جو ان ہزاروں لوگوں کے لیے پناہ گاہ بھی بنے ہوئے ہیں جو اپنے گھر بار کھو چکے ہیں یا لڑائی سے فرار ہو کر آئے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے ہفتے کے روز کہا کہ محصور فلسطینی علاقے میں تقریباً 9000 مریضوں کو ہنگامی نگہداشت کے لیے انخلاء کی ضرورت تھی۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے ایکس پر کہا، "پورے غزہ میں صرف 10 ہسپتالوں کے کام کرنے کی وجہ سے ہزاروں مریض صحت کی نگہداشت سے محروم ہیں۔"

ڈبلیو ایچ او کے مطابق لڑائی شروع ہونے سے پہلے غزہ میں 36 ہسپتال تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی انتقامی مہم میں اب تک کم از کم 32,705 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں