فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے لیے تقریباً 400 ٹن خوراک کے ساتھ دوسری کھیپ قبرص کی بندرگاہ سے روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ غزہ کے لیے تقریباً 400 ٹن خوراک لے جانے والی امداد کی دوسری کھیپ ہفتے کے روز قبرص کی لارناکا بندرگاہ سے روانہ ہو گئی۔

یہ امداد ایک مال بردار جہاز اور ایک پلیٹ فارم کے ذریعے غزہ تک لے جائی جائے گی جو بچاؤ کرنے والے بحری جہاز کے ذریعے رسے کی مدد سے کھینچی جائے گی۔

یہ قبرص کے راستے امداد کی دوسری ترسیل ہوگی جہاں قبرصی حکام نے اسرائیل کے تعاون سے پہلے سے اسکرین شدہ سامان کی سہولت کے لیے ایک سمندری راہداری قائم کی ہے جو محصور فلسطینی انکلیو میں براہِ راست پہنچے گا۔

امریکہ میں قائم خیراتی عالمی مرکزی کچن (ڈبلیو سی کے) نے اس مشن کا اہتمام اسپین کے اوپن آرمز خیراتی ادارے کے ساتھ مل کر کیا جس میں بنیادی طور پر متحدہ عرب امارات نے مالی اعانت اور قبرصی حکام نے مدد فراہم کی تھی۔

مارچ کے شروع میں اپنے پہلے مشن پر اس نے انکلیو میں تقریباً 200 ٹن خوراک اتارنے کو ممکن بنانے کے لیے ملبے سے ایک عارضی جیٹی بنائی جس میں بندرگاہ والی کوئی سہولت نہیں ہے۔ ہفتہ کو آنے والے سامان میں دو فورک لفٹیں اور ایک کرین شامل ہے تاکہ مستقبل میں سمندری ترسیل میں مدد ملے۔

اس کے علاوہ امریکہ غزہ کے قریب امداد حاصل کرنے کے لیے ایک تیرتا ہوا گھاٹ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس نے جمعہ کو تادیر کہا کہ تکمیل کی ہدفی تاریخ یکم مئی ہے لیکن یہ تقریباً 15 اپریل تک تیار ہو سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں قحط آنے والا ہے جہاں تین لاکھ افراد لڑائی کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔ پورے انکلیو میں اس کی 2.3 ملین آبادی کے نصف سے زیادہ کو جولائی تک قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں