فرانس، اردن اور مصر کا غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس، اردن اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں ایک فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔ تینوں وزرائے خارجہ نے اس امر کا مطالبہ قاہرہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ سٹیفنے سیجورنے کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت سلامتی کونسل میں ایک ایسی قرارداد کے مسودے کے ساتھ آگے آنے کا ارادہ رکھتی ہے جو غزہ کے تنازعے کے سیاسی حل پر زور دے اور جنگ کو روکے۔ ان کے مطابق اس مسودے کا متن دو ریاستی حل کے حوالے سے اہم ہوگا۔

امن کا یہ خاکہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے۔ تاہم اسرائیل کی حکومت اور وزیراعظم نیتن یاہو اس کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد اختیار کی۔ دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک ہلاک ہوچکے فلسطینیوں کی تعداد 32705 ہو چکی ہیں۔

بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کو جمعرات کے روز حکم دیا ہے کہ غزہ کے جنگ زدہ لوگوں کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے جو کچھ بھی کر سکتا ہے کرے۔ تاکہ 5 ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قحط کو روکا جا سکے۔

اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے قاہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'کوئی بھی بین الاقوامی قانون اسرائیل پر لاگو نہیں ہو رہا۔ اصل المیہ اور تباہی یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری اس کو روکنے میں ناکام ہے۔'

تینوں وزرائے خارجہ نے اپنی حکومتوں کی طرف سے 'اونروا' کی حمایت کی تجدید کا اعلان کیا ہے۔ 'اونروا' کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ اس کے فنڈز کو کئی ملکوں نے بند کر دیا تھا۔

اردنی وزیر خارجہ ایمن صفادی نے کہا ہے 'اسرائیل فلسطینیوں کو بھوک سے نہیں مارنا چاہتا بلکہ ہر اس طاقت کو روکنا چاہتا ہے جو قحط کے راستے میں رکاوٹ بنے۔'

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے کہا 'غزہ مزید کوئی تباہی اور انسانی بحران برداشت نہیں کر سکتا ہے۔' انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کو جانے والی تمام راہداریوں کو کھول دے۔ تاکہ انسانی بنیادوں پر غزہ میں لوگوں کو بلاتعطل امداد پہنچائی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں