’قسمت کی دیوی مہربان ہوئی تو قیدی کو جیل کی سلاخوں سے نکال کر ملک کا صدر بنا دیا‘

سینیگال کے نو منتخب صدر باسیر کو الیکشن سے سرف 10 روز قبل جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ وہ ایک سابق انکم ٹیکس افسر تھے اور انہیں توہین عدالت کے الزام میں ایک سال قید کی سزا کاٹنا پڑی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سینیگال اپنی سیاسی تاریخ کے ایک اہم اور فیصلہ کن واقعے کی تیاری کر رہا ہے، کیونکہ باسیرو دیو مائی وائی متبادل امیدوار، سابق قیدی اور حیرت انگیزطور پر منتخب ہونے والے صدر ہیں جو منگل کو منصب صدارت سنبھالیں گے۔

یہ محض اتفاق ہے کہ باسیرو پرامن طور پر ملک کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ مغربی افریقی ملکوں میں اقتدار پرامن طریقے سے منتقل کیے جانے کی روایت شاذ ہی رہی ہے۔ باسیرو کی جیت اور ایک سابق اپوزیشن رہ نما کے طور پر ملک کی باگ ڈور سنھبالنا اور اقتدار کی پرامن منتقلی خطے کے دوسرے سیاسی مہم جو لیڈروں کے ایک نئی مثال ہوسکتی ہے۔

باسیرو سینیگال کی تاریخ کے سب سے کم عمر صدر منتخب ہوئے ہیں، کیونکہ ان کی عمر صرف 44 سال ہے۔ وہ مجموعی طور پر افریقہ میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے سب سے کم عمر صدر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی چوالیسویں سالگرہ اس دن منائی جب انتخابات کے نتائج سامنے آئے۔

سابق انکم ٹیکس ملازم باسیرو کو "توہین عدالت" اور "ہتک عزت" کے الزام میں تقریباً ایک سال حراست میں گذارنے کے بعد انتخابات میں پولنگ سے 10 دن پہلے جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ انہوں نے سینیگال میں سیاسی بحران کو ختم کرنے والے عام معافی کے قانون سے فائدہ اٹھایا۔

وہ یکم اپریل کو صدر میکی سال کی مدت صدارت ختم ہونے سے قبل ملک میں ایک مختصر انتخابی مہم کی براہ راست قیادت کرنے کے لیے جیل سے باہر آئے۔ یہ عہدہ خالی ہونے سے پہلے ملک کے لیے صدر کا انتخاب ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے جس پر ملک کا مستقبل کشیدگی اور عدم استحکام سے دوچار ہوسکتا ہے۔

پہلا اپوزیشن رہ نما جو پہلے راؤنڈ میں جیت گیا

گذشتہ سال اپریل میں مخالفین کے ایک گروپ کے ساتھ گرفتاری سے قبل باسیرو زیادہ تر سینیگالیوں کے لیے اجنبی تھے۔ نئے صدر نے کبھی بھی ریاست میں کوئی انتخابی عہدہ یا حتیٰ کہ کوئی اہم عہدہ نہیں رکھا تھا، لیکن اتفاقات اور واقعات نے ان کے لیے ایسے مقام کی راہ ہموار کردی جس کا انہوں نے سوچا تک نہیں تھا۔

حزب اختلاف کے رہ نما عثمانی سونوکو پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد آئینی کونسل کی جانب سے ان کی امیدواری کی فائل کو مسترد کیے جانے کی وجہ سے باسیرو کے اس میدان میں آنے کی راہ ہموار ہوئی۔

باسیرو نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور ایک کامیاب انتخابی مہم کی قیادت کی۔اپنی پرسکون تقریر کی بدولت وہ اپنے حق میں بلاکس بنانے اور اپوزیشن کو اکٹھا کرنے میں کامیاب رہے۔ تین امیدواران کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو گئے۔انہوں نے پہلے راؤنڈ میں فتح حاصل کی۔

باسیرو نے پہلے راؤنڈ میں 54.28 فی صد ووٹ حاصل کیے، جو کہ حکمران جماعت کے امیدوار امادو با سے بہت آگے ہیں، جنھیں 35.79 فی صد ووٹ ملے۔

باسیرو کے ٹیکس انتظامیہ کے ملازم سے ملک کے صدر تک پہنچنے کی کہانی حیران کن اور دلچسپ ہے۔مغربی افریقہ میں ہونے والے واقعات میں ان کا صدر متنخب ہونا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔

اس حوالے سے سینیگال کے محقق امادو با کا کہنا ہے کہ، "جیل میں داخل ہونے سے لے کر صدارتی نشست تک پہنچنے تک جس منظرنامے کا تجربہ باسیرو نے کیا اس نے بہت سے لوگوں کی توجہ ان کی طرف جانب مبذول کرنے میں مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ "اپنے سیاسی تجربے کی کمی کے باوجود کہ وہ پہلے کبھی اہم عہدوں پر فائز نہیں رہے، وہ خود کو ایک ایسے صدر کے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کریں گے جو اپنے مشن کو مکمل طور پر پورا کرنے کا کافی تجربہ رکھتا ہے۔ یہ حقیقت ان پر دباؤ کا عنصر بن سکتی ہے۔ وہ فوری طور پر صدارت پر اپنا حق ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئےانھوں نے کہا کہ "باسیرو کی جیت میں مثبت نکات ہیں جو ان کے سیاسی تجربے کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں جوکہ ان کے سیاسی مخالفین نہیں ہیں اور ان کا سیاسی ریکارڈ اور بے داغ ماضی انھیں اس سے نمٹنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں