’مصر رفح پر اسرائیلی حملے سے قبل اپنی سرحد پرامریکی سکیورٹی سپورٹ کا خواہاں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قاہرہ نے غزہ پر جاری مذاکرات کے تناظر میں امریکہ سے کئی مطالبات کیے ہیں، جن میں رفح پر اسرائیلی حملے کی تیاری کے لیے غزہ کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے فنڈنگ اور حفاظتی سامان فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

’پولیٹیکو‘ ویب سائٹ نے مصر، امریکہ اور اسرائیل کے پانچ عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ قاہرہ نے حالیہ مہینوں میں امریکہ سے فنڈز اور نئے فوجی ساز وسامان کی اضافی کھیپ فراہم کرنے پر غور کرنے کو کہا تھا۔ اس سامان میں سکیورٹی سسٹم، ریڈار اور دیگر سامان شامل ہیں۔

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دوسری جانب اسرائیل نے رفح کے علاقے میں حماس کے خلاف وسیع زمینی اور فضائی فوجی آپریشن کی تیاریاں تیز کردی ہیں۔

رفح کا شہر غزہ کے انتہائی جنوب میں مصر کی سرحد سے متصل ہے جہاں پورے غزہ سے نقل مکانی کرنے والے 14 لاکھ فلسطینیوں سمیت پندرہ لاکھ شہری عارضی طور پر پناہ گزین ہیں۔

مصری درخواستیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی، قطری، مصری اور اسرائیلی حکام کے درمیان ایک روڈ میپ تیار کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے جو غزہ میں حماس کے زیر حراست باقی تمام مغویوں کی رہائی کے لیے لڑائی کو روکنے کا باعث سکتا ہے۔

قاہرہ رفح میں اسرائیلی منصوبے کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ مصری حکام کے مطابق یہ لاکھوں غزہ کے باشندوں کو جنوب کی طرف سرحد کی طرف بھاگنے اور مصر کی طرف جانے کی کوشش کرنے پر مجبور کرے گا۔

پولیٹیکو کے مطابق حکام کو خاص طور پر حماس کے جنگجوؤں کے سینا میں داخل ہونے پر تشویش ہے۔ سیناء ایک ایسا خطہ ہے جہاں برسوں سے انتہا پسند سرگرم رہے ہیں اور انہوں نے کئی مہلک دہشت گرد حملے کیے ہیں۔

حکام نے کہا کہ مصر کی طرف سے درخواست کی گئی اضافی فنڈنگ اور آلات اس کی فوج کو اپنی سرحد پر غزہ کے باشندوں کی ممکنہ آمد سے نمٹنے میں مدد فراہم کریں گے۔ دو امریکی عہدیداروں نے سائٹ کو بتایا کہ مصری درخواستیں اگرچہ عام ہیں مگر یہ رفح کے حوالے سے شدید بین الاقوامی دباؤ کی عکاسی کرتی ہیں۔

اسرائیلی اہلکار نے پولیٹیکو کو بتایاکہ "اسرائیل کے لیے رفح پر حملے کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیں مصر کی منظوری درکار ہے۔ یہ ان کی سرحد ہے جس کے بارے میں وہ فکر مند ہیں"۔

ایک تیسرے امریکی اہلکار نے ویب سائٹ کو بتایا کہ انتظامیہ نے اپنی سرحدوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان حالیہ ہفتوں میں مصریوں کے ساتھ بات چیت تیز کردی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن حماس کے لیے اسمگلنگ کے تمام ممکنہ راستوں کو بھی بند کرنا چاہتا ہے۔

پولیٹیکو کے مطابق قاہرہ کو عرب ممالک سمیت دیگر مقامات سے مدد مل سکتی ہے۔ اس ماہ کے شروع میں واشنگٹن اسرائیل کو رفح پر حملہ کرنے کے بجائے سرحد کے سکیورٹی کنٹرول میں حصہ لینے کا منصوبہ پیش کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں