1,000 کلوگرام وزنی امریکی بموں سے اسرائیل نے رفح میں طبل جنگ بجا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں بات چیت کے ساتھ اسرائیلی حکام جنوبی غزہ کی پٹی کے سرحدی شہر رفح میں ایک فوری فوجی آپریشن کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ فوجی کارروائی کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور چیف آف اسٹاف ہرزی ہلیوی سمیت سینیر اسرائیلی حکام پہلے ہی امریکی حکام سے رفح میں زمینی آپریشن سے متعلق فوج کے منصوبوں پر بات کر چکے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ رفح میں فوجی آپریشن کے خیال کی مخالفت نہیں کرتا لیکن اسے صرف اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں اور وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ لڑائی کے دوران مزید شہریوں کی ہلاکت کو روکا جائے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ہفتے کی شام رپورٹ کیا تھا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین چارلس براؤن نے ہلیوی سے اس آپریشن کے لیے ایک امریکی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔

براؤن نے رفح میں فوجی آپریشن شروع کرنے کی مخالفت نہیں کی لیکن انہوں نے کہا کہ "ہم رفح میں مزید ہزاروں بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کو قبول نہیں کریں گے جیسا کہ غزہ سٹی اور خان یونس میں ہوا تھا۔ کارپوریشن نے سیاسی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "امریکہ اسرائیلی عسکری قیادت کے ساتھ پیشہ ورانہ (تکنیکی) سطح پر بات چیت کرنا چاہتا ہے"۔

اسی تناظر میں چینل 14 نے رفح میں آپریشن کی تیاریوں کی تفصیلات سے واقف ایک سیاسی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ درحقیقت کر لیا گیا تھا اور یہ معاملہ ٹائمنگ اور انتظامی مسائل کی وجہ سے موخرا ہوا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ’’رفح میں نقل و حرکت ہوگی اور یہ حتمی فیصلہ ہے۔ اس آپریشن پر عمل درآمد میں تاخیر کی وجہ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ "التوا کی وجہ حماس کے ساتھ مذاکرات سے متعلق نہیں ہے بلکہ آپریشنل وجوہات ہیں جن کی نگرانی کی وجہ سے تفصیل نہیں بتائی جا سکتی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم برسوں تک غزہ، رفح، خان یونس اور پوری پٹی میں رہیں گے"۔

تباہ کن بم اور جنگی جہاز

’واشنگٹن پوسٹ‘ نے کل ہفتے کو رپورٹ کیاتھا کہ امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی ایک نئی کھیپ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ’ایم کے‘ کی طرز ے اسمارٹ بم شامل ہیں، جن کی مقدار 1,800 سے زیادہ ہے، جن میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً 1,000 کلو گرام ہے۔ دیگر بموں کے علاوہ 500 ایسے بم شامل ہیں جن کا وزن 250 کلو گرام ہے۔ ساتھ ہی فوجی طیارے جن میں F-35 جنگی طیارے شامل ہیں اسرائیلی فوج کو دیئے جائیں گے۔

اخبار نے اس معاہدے کی مالیت ڈھائی ارب ڈالر بتائی ہے۔ اس معاہدے کے بارے میں امریکہ کا یہ فیصلہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع کے اس دورے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارتوں کو زمین سے برابر کرنے کی صلاحیت رکھنے والے 2,000 پاؤنڈ کے بم شہریوں پر تباہ کن اثرات کی وجہ سے اب مغربی فوجیں گنجان آباد مقامات پر استعمال نہیں کرتیں۔تاہم یہ امر حیران کن ہے کہ امریکہ اس نوعیت کا تباہی پھیلانے والا اسلحہ اسرائیل کو دے رہا ہے جو کا عالمی سطح پر استعمال ممنوعہ قرار دیا جا چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حال ہی میں منظر عام پر آنے والا امریکی اسرائیل تنازعہ رفح آپریشن سمیت مزید زمینی کارروائیوں کو نافذ کرنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ واضح آپریشنل منصوبوں کو تیار کرنے کے فریم ورک کا حصہ ہے۔

یابس سنٹر فار سٹڈیز کے ڈائریکٹر سلیمان بشارات نے کہا کہ "امریکہ اور بائیڈن انتظامیہ غزہ کی پٹی پر جنگ کی حمایت نہیں کرتے، بلکہ امریکہ اس میں ایک بڑا شراکت دار ہے۔یہ مریکہ ہی ہے جوسیاسی ، سفارتی اور جنگی میدان میں اسرائیل کی بھرپور مدد اور حمایت کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں