فلسطین اسرائیل تنازع

سیز فائر مذاکرات، حماس نے وفد قاہرہ بھیجنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے ایک عہدیدار نے اتوار کے روز ' اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ اس نے قاہرہ مذاکرات کے نئے شروع ہونے والے دور میں اپنا نمائندہ بھیجنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا ہے۔

واضح رہے غزہ میں جنگ بندی کے لئے مذاکرات کا نیا دور اتوار کے روز سے شروع ہونا طے پایا تھا۔ یہ تصدیق مصری ٹی وی چینل القاہرہ نے دو روز قبل رپورٹ کی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی اس سلسلے میں اسرائیلی موساد چیف کی سربراہی میں اسرائیلی وفد کے قاہرہ جانے کی منظوری دی تھی۔ تاکہ اعلی سطح کا اسرائیلی وفد مذاکرات کاحصہ بن سکے۔اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان کے درمیان جنگ بندی کی توقع رمضان کے شروع ہونے سے پہلے کی جا رہی تھی مگر اس وقت اسرائیل نے اپنا وفد قاہرہ نہ بھیج کر جنگ بندی کو التوا میں ڈال دیا تھا۔ جس سے عالمی سطح پر بالعموم اور مسلم دنیا کی سطح پر بالخصوص بہت تشویش محسوس کی گئی۔

مذاکرات میں مدد دینے والے ثالث ملک توقع کر رہے ہیں کہ جنگ بندی ہو جائے گی۔ تاہم رمضان المبارک کے دو عشرے گزر چکے ہیں اور تیسرا عشرہ شروع ہو چکا ہے۔

تاہم اب حماس کی طرف سے قاہرہ یا دوحہ میں مذاکراتی سیشنز کے لئے اپنا وفد بھیجنے کا اس کے باوجود فیصلہ نہیں کیا جا سکا کہ اتوار کو قاہرہ میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہونا تھا۔ حماس عہدیدار نے 'اے ایف پی ' کو یہ بتاتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کے لئے درخواست کی ۔

اس رہنما نے کہا ' وہ نہیں سمجھتے کہ ان مذاکرات سے کوئی کامیابی ہو گی ۔ کیونکہ نیتن یاہو جنگ بندی کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں۔ نیز دونوں فریقوں کے موقف میں بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ جسے کم کرنا آسان نہیں ہے۔ امریکی انتظامیہ بھی اسرائیل پر ایسا دباؤ ڈالنے کو تیار نہیں جو جنگ بندی میں پیش رفت کا باعث بن سکتا ہو ۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں