دو دہائیاں قبل دہشت گردی کاشکار ہونے والا فارم فائیو اسٹارریزورٹ میں کیسے تبدیل ہوا؟

سعودی عرب کے علاقے قصیم میں غضی فارم ہاؤس میں 2003ء میں چھپے چھ دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسزنے ایک آپریشن کیا۔ اس کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار شہید اور چھ دہشت گرد مارے گئے تھے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جولائی 2003ء کے آخر میں اس وقت سعودی عرب میں رونما ہونے والے واقعات کے ایک سلسلے کے بعد بریدہ شہر کے شمال مغرب میں واقع قصبے غضی عیون الجوا کے ایک فارم کو خونی واقعات کی یادگار قرار دیا جاتا ہے۔

دو دہائیاں قبل یہ جگہ دہشت گردی مرکز بنی مگراب اسے ایک فائیو اسٹار ریزورٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں نے قصیم کے علاقے میں ایک فارم میں چھپے ہوئے لوگوں کے ایک گروپ کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ وہاں پر 6 مطلوب افراد غضی فارم میں چھپے ہوئے تھے۔ سخت تصادم کے بعدسکیورٹی اہلکار اس دہشت گرد سیل کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان سب کے ساتھ دو سکیورٹی اہلکار شہید اور آٹھ زخمی ہوئے۔

غضی فارم سلسلہ وار واقعات کے بعد قصیم میں سکیورٹی حکام کی طرف سے پہلی بار تصادم کا مشاہدہ کیا گیا، جس کا آغاز ریاض میں الجزیرہ کے محلے میں ایک گھر میں 2003ء کو القاعدہ کے ایک رکن کے ہاتھ میں دستی بم کے پھٹنے سے ہوا۔

اس کے بعد القاعدہ کی جانب سے سعودی عرب میں پہلی مطلوب افراد کی فہرست کا اعلان کیا گیا، جسے اس عرصے کے دوران سعودی عرب میں القاعدہ کے رہ نماؤں میں سے 19 افراد کی فہرست کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اسی مہینے میں ریاض کے مشرق میں رہائشی کمپلیکس میں تین بم دھماکے دیکھے، جنہیں الحمرا، سیویل اور فینیل بم دھماکوں کے نام سے جانا جاتا ہے، جن میں سعودی شہریوں سمیت 34 افراد ہلاک ہوئے۔

لگاتار واقعات

اسی سال سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔ میں سعودی عرب میں القاعدہ کے پہلے رہنما یوسف العییری کی قیادت میں رہ نماؤں کے ایک گروپ کا قتل بھی شامل ہے، جو حائل کے شمال میں مارا گیا تھا۔ اسی سال واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اسی سال الجوف میں 4 مطلوب افراد کی خودکشی دیکھنے میں آئی جن مشہور عسکریت پسند دندانی بھی شامل ہے۔

غضی ہارس فارم

سنہ 2003ء میں سکیورٹی اہلکاروں کے پے در پے تعاقب کے دوران فارم کے محاصرے سے پہلے کے چار ماہ میں تنظیم پر یکے بعد دیگرے حملے دیکھنے میں آئے، جن کا انکشاف اس وقت ہوا جب ریاض میں ان کے ہاتھوں میں ایک ہینڈ گرنیڈ پھٹا۔

قصیم ہوائی اڈے اور قصیم یونیورسٹی کے قریب واقع یہ فارم ایک ایسی جگہ پر ہے جو اس وقت منظم نہیں تھا، جہاں مشہور گھر واقع تھے۔ کھجور کے درختوں کے درمیان الگ تھلگ تھے جہاں 6 مطلوب افراد چھپے ہوئے تھے، جن میں پہلی فہرست میں شامل 19 افراد میں سے ایک دہشت گرد بھی شامل تھا۔

فارم کا سختی سے محاصرہ کیا گیا اور اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران ان چھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس آپریشن میں دو سکیورٹی اہلکار شہید اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔

فارم کی بحالی

21 سال کے بعد زرعی شعبے میں ایک سرمایہ کار نے اسی مقام پر ایک زرعی ریزورٹ قائم کیا ہے جس میں ایک بار پھر زندگی لوٹ آئی ہے۔ یہ جگہ دہشت گردوں کے ٹھکانے، ان کے خلاف خونی آپریشن اور سعودی سکیوٹی اہلکاروں کی بہادری کی وجہ سے مشہور ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں