شاعروں کے مقامات کو دستاویزی شکل دینے سے ثقافتی تحریک کو تقویت ملے گی:وزارت ثقافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارت ثقافت نے عرب شاعروں کی نسبت سے مشہور ہونے والے مقامات کے لیے ایک "مقامی دستاویزات" کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ ان مقامات میں شاعر پوری تاریخ میں ان کے ساتھ منسلک رہے تھے۔وزارت ثقاففت کا مقصد ان کو دستاویزی شکل دینا اور ان تک رسائی کی سہولت فراہم کرنا، تعارفی پینلز کے ذریعے ان کو لنک کرنا۔ زمانہ جاہلیت کے شاعروں کے ساتھ ورثے کے مقامات کے ساتھ جوڑنا اور آج کے دور کے لوگوں کو شاعروں کے مقامات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔

وزارت ثقافت کے ترجمان عبدالرحمٰن المطوع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ جزیرہ نما عرب کی سرزمین جس کی آج سعودی عرب نمائندگی کر رہا ہے عرب شاعروں کا گہوارہ رہی ہے۔انہوں نے شاعری کے منظر کو نظموں سے مالا مال کیا۔ لہٰذا یہ ثقافتی اقدام سعودی عرب میں پہلے عرب شاعروں اور ان سے وابستہ جغرافیائی مقامات کے درمیان تاریخی ربط کو دستاویزی شکل دینے اور اسے اس طرح فعال کرنا ہے تاکہ مملکت کی ثقافتی ورثے اور سیاحت کی تحریک کو تقویت ملے۔

علمی بیداری

المطوع نے مزید کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وزارت ثقافت کا مقصد مملکت میں تاریخی ورثے کے مقامات اور شعراء کے درمیان تعلق کے بارے میں علمی بیداری کو بڑھانا اور موجودہ دور کے مقامات کو تاریخ کے ساتھ جوڑ کر سعودی نوجوانوں کی قومی شناخت کو مضبوط کرنا ہے۔ ادب اور سعودی عرب کی سرزمین کی ثقافتی اور تاریخی گہرائی کے بارے میں مقامی کمیونٹی اور سیاحوں کے لیے بیداری کو بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت ثقافت نے 2023ء کے دوران "عرب شاعری کا سال" اقدام کی چھتری کے تحت اس پروجیکٹ میں ہدف بنائے گئے شعرا سے متعلق سائٹس پر تحقیق اور مطالعہ پر کام شروع کیا۔ یہ منصوبہ اس سال کے آغاز میں مکمل کیا گیا۔ .

انہوں نے کہا کہ ریاض، الاحساء، الباحہ، طائف، مدینہ منورہ، القصیم، حائل، عسیر اور نجران میں شاعروں کے متعدد مقامات کو دستاویز کرنے کے لیے کام کیا گیا۔ دستاویز میں ہر شاعر کے لیے ایک تعارفی بورڈ نصب کرنا ہوتا ہے تاکہ لوگ اس جگہ اور یہاں پر گذرے شعراء کے بارے میں جان سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں