فلسطین اسرائیل تنازع

نئی فلسطینی حکومت کی چیلنجوں اور شکوک و شبہات کے درمیان حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک نئی فلسطینی حکومت جس میں غزہ کے باشندے اور چار خواتین شامل ہیں، نے اتوار کو حلف اٹھایا لیکن اسے پہلے ہی اپنے ہی لوگوں کی طرف سے شکوک و شبہات کا سامنا تھا۔

محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی پر واشنگٹن کی طرف سے دباؤ ہے کہ وہ غزہ جنگ کے نتیجے میں نااہل لوگوں کو تبدیل کرنے کی تیاری کرے اور اصلاحات کرے۔

نومنتخب وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ نے اپنی نئی ٹیم کا نام دیتے ہوئے کہا ان کی حکومت کی "اعلیٰ قومی ترجیح" جنگ کا خاتمہ ہے۔

انہوں نے کہا ان کی کابینہ غزہ کی ذمہ داری سنبھالنے سمیت اداروں کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے وژن وضع کرنے پر کام کرے گی۔

88 سالہ صدر عباس کو امریکہ آمادہ کر رہا ہے کہ وہ نازک اور کمزور فلسطینی اتھارٹی میں بنیادی اور وسیع تبدیلیاں کریں تاکہ وہ جنگ کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے اور تباہ شدہ غزہ کی پٹی کو ایک ہی اصول کے تحت دوبارہ متحد کر سکیں۔

حماس کے 2007 میں عباس کی فتح پارٹی سے اقتدار لے لینے کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی کا غزہ کی پٹی پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔

سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے جنوری میں ملاقات میں عباس پر زور دیا کہ وہ "انتظامی اصلاحات" کریں۔

عباس کی رام اللہ میں مقیم انتظامیہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے کئی عشروں پرانے قبضے اور ان کی اپنی غیر مقبولیت کی وجہ سے بیکار و بےبس ہو کر رہ گئی ہے۔

ماہرِ اقتصادیات اور عباس کے ایک دیرینہ مشیر مصطفیٰ نے کہا چونکہ غزہ سات اکتوبر کے حملے کے جواب میں چھ ماہ کی اسرائیلی بمباری کے بعد کھنڈرات میں بدل گیا ہے تو ان کا بنیادی مقصد فلسطینی علاقوں کی "تعمیرِ نو" ہے۔

ان کی نئی کابینہ 23 وزراء پر مشتمل ہے اور اس میں چار خواتین اور غزہ سے چھ وزراء شامل ہیں جن میں غزہ سٹی کے سابق میئر ماجد ابو رمضان کو صحت کا قلمدان دیا گیا ہے۔

نئے زنانہ چہروں میں ایک فلسطینی-آرمینیائی ماہرِ تعلیم وارسن آغابیکیان ہیں جو وزارتِ خارجہ میں مصطفیٰ کے ساتھ کام کریں گی۔ اسے بھی مصطفیٰ کنٹرول کرتے ہیں۔

'تقسیم کا گہرا ہونا'

وزیرِ اعظم جو پہلے عالمی بینک کے لیے کام کر چکے ہیں، نے کہا کہ "بدعنوانی کے خلاف جنگ" کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے منسلک مشرقی یروشلم کا کانٹے دار مسئلہ بھی ان کی اولین ترجیح ہے۔

لیکن بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ آیا فلسطینی اتھارٹی - جو تقسیم، بدعنوانی کے اسکینڈلوں اور اپنے معمر لیڈر کے آمرانہ رجحانات کے ہاتھون مسلسل تنگی سے دوچار ہے - مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں قابل اعتماد فریق ہو سکتی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ایک سابق وزیر اور ماہرِ سیاسیات علی جارباوی نے کہا کہ اسے تمام محاذوں پر بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ مالی طور پر شکستہ اور مقروض ہے اور اپنی تنخواہیں ادا نہیں کر سکتی اس لیے اسے فوری مالی مدد کی ضرورت ہے۔"

اور اسے دونوں فلسطینی دھڑوں کی قبولیت کی ضرورت ہے - الفتح جو مغربی کنارے کو کنٹرول کرتی ہے اور غزہ میں حماس۔

جارباوی نے کہا، "تیسرے نمبر پر اسے بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایک سیاسی افق کی ضرورت ہے اور دو ریاستی حل کے لیے عزم کی ضرورت ہے۔"

اور اس میں سے کچھ بھی اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینیوں پر "اسرائیلی حکومت، فوج اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کا دباؤ کم نہ ہو جائے"۔

حماس کے سینئر رکن باسم نعیم نے عباس کی پالیسیوں پر تنقید کی۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا،"متحدہ فلسطینی فیصلہ سازی کو ہائی جیک کرنا ہمارے عوام کی تاریخ کے اس نازک مرحلے پر ہمارے مقصد" کے لیے خطرناک ہے۔"

انہوں نے کہا کہ حماس نے "قومی مذاکرات کی خاطر بیٹھنے اور سیاسی نظام کی تعمیرِ نو کی تجویز پیش کی تھی... لیکن عباس نے ان تمام کوششوں کو روک دیا۔"

حماس، اسلامی جہاد اور مارکسسٹ پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے رواں ماہ کے اوائل میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ کی تقرری فلسطینیوں کی تقسیم کو صرف گہرا ہی کرے گی۔

رام اللہ جہاں اتھارٹی قائم ہے، کی سڑکوں پر لوگ بھی اتنے ہی شکی تھے۔

56 سالہ سلیمان ناصر نے کہا، 'حکومت بدلنے سے کچھ حل نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں تبدیلی صرف باہر سے آتی ہے۔"

انہوں نے کہا، ہم بخوبی جانتے ہیں کہ کوئی بھی وزیر یا کوئی فلسطینی حکومت امریکی یا اسرائیلی" منظوری کے بغیر داخل نہیں ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں