دمشق میں ایرانی سفارت خانے پرحملے کا علم ہے نہ کوئی تعلق:بائیڈن انتظامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے شام کے دارالحکومت دمشق میں کل سوموار کے روز ایرانی سفارت خانے پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے بارے میں لا علمی اور لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ دمشق میں ایرانی سفارت خانے سے متصل ایک عمارت پر ہونے والے فضائی حملے کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے متعدد سینیر رہ نماؤں سمیت ایک درجن کےقریب افراد مارے گئے تھے۔ اس حملے کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی جا رہی ہے۔

دو امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے تہران کو براہ راست مطلع کیا ہے کہ وہ اس کے سفارت خانے پر حملے سے آگاہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کا اس سے کوئی تعلق تھا۔

’جب جہاز اڑے تو ہمیں مطلع کیا گیا‘

منگل کو NBC کی رپورٹ کے مطابق دو دیگر امریکی حکام نے تصدیق کی کہ امریکی انتظامیہ کو ایرانی سفارت خانے پر حملے کی اطلاع دی گئی تھی جب کہ اسرائیلی طیارے پہلے ہی فضا میں پرواز کر رہے تھے اور انہیں ہدف کا علم نہیں تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے ابھی تک کسی آزاد ذریعے سے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر محمد رضا زاہدی بھی فضائی بمباری میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

دمشق میں ایرانی قونصلیٹ کی ویب سائٹ سے
دمشق میں ایرانی قونصلیٹ کی ویب سائٹ سے

اس کے علاوہ ایک اسرائیلی اہلکار نے Axios کو بتایا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کچھ عرصے سے زاہدی کا سراغ لگا رہی تھی، لیکن حالیہ دنوں تک اسے قتل کرنے کا موقع نہیں ملا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیل نے اس حملے کو انجام دینے کے لیے امریکہ سے "گرین سگنل " نہیں مانگا، بلکہ اس سے چند منٹ قبل اس کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شام میں ایران کے ساتھ مل کر مسلح دھڑوں کی طرف سے جوابی حملوں کے پیش نظر اسرائیلی فوج ہائی الرٹ پر ہے۔

"یہ نہ قونصل خانہ ہے اور نہ ہی سفارت خانہ"

دریں اثنا شام کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملہ کیا، جس میں اندر موجود تمام افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

محمد زضا زاہدی
محمد زضا زاہدی

جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو اس نے ابھی تک اس حملے پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے صرف اتنا کہا کہ ’’یہ نہ تو قونصل خانہ ہے اور نہ ہی سفارت خانہ، بلکہ قدس فورس کی ایک فوجی عمارت تھی جسےسول عمارت کی آڑ میں استعمال کیا جا رہا تھا‘‘۔

دوسری جانب ایران نے اس واقعے پر سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے اس کا مناسب وقت اور جگہ پر بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں