فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں امداد تقسیم کرنے والی آسٹریلوی خاتون اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہوئی

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز کا اسرائیل سے وضاحت لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ان کی ایک شہری بطور امدادی کارکن کامر کرتے ہوئے غزہ میں بمباری سے ہلاک ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ زومی فرینکم ایک رضا کار بن کر امریکی کمپنی 'ورلڈ سنٹرل کچن ' کے ساتھ کام کر رہی تھی۔

وزیر اعظم کے مطابق وہ بہت قابل قدر کام کر رہی تھی اور غزہ کے زیر محاصرہ لوگوں میں خوارک تقسیم کرنے پر مامور تھی۔ ان کا کہنا تھا میں اسے نہیں جاننے کا اعزاز نہیں رکھتا تھا۔ مگر یہ ناقابل قبول ہے۔ انتھونی البانیز نے اسرائیلی بمباری سے اپنی شہری کی ہلاکت کی مذمت کی اوراس کے اہل خانہ کے ساتھ دلی اظہار تعزیت کیا۔

آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا 'وہ محض اپنے خدمت کے جذبے کے تحت کام کرنے گئی تھی۔ ' واضح رہے فلسطینی ڈرائیور چار غیر ملکیوں کی لاشیں لے کر دیر البلاح کے مقامی ہسپتال اسرائیلی بمابری کے کچھ ہی دیر میں لے کر پہنچ گیا تھا۔ جب غزہ میں امداد تقسیم کرنے والے یہ چاروں اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہو گئے تھے۔

غزہ کی وزارت صحت نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی بمباری کرنے والے طیارے نے چار غیر ملکیوں کی گاڑی کو ہدف بنا کر بمباری کی تھی۔

واضح رہے 'ورلڈ سنٹرل کچن ' نامی ادارہ امریکی ہے اور یہ قبرص کے راستے سمندر سے مختلف ملکوں کی طرف سے بھجوایا جانے والا امدادی سامان اور خوراک غزہ میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔

قبرص کی بندرگاہ کے راستے اب تک خوراک کے حوالے سے امداد زیادہ تر متحدہ عرب امارات نے کی ہے۔ جبکہ امریکہ اور اس کے ادارے اس امدادی عمل کو منظم کر رہے ہیں۔ آسٹریلوی خاتون کارکن اسی امریکی 'ورلڈ سنترل کچن کے ساتھ وابستہ تھی۔

وزیر اعظم آسٹریلیا نے کہا ہے کہ ' آسٹریلیا اسرائیلی حکام سے اپنی شہری پر بمباری کے حوالے سے وضاحت طلب کرے گا۔ ہم اس بارے میں مکمل حساب چاہیں گے کیونکہ یہ ایک ایسا المناک واقعہ ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔' اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں اعلیٰ ترین سطح پر تحقیقات کرے گی تاکہ جان سکے یہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں