پاسداران انقلاب نے دمشق میں کمانڈروں سمیت اپنے سات ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہےکہ دمشق میں تہران کےسفارتخانے پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو سینیر افسران سمیت اس کے سات ارکان ہلاک ہو گئے۔

پاسداران انقلاب نے ایک بیان اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں شام اور لبنان میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی اور ان کے نائب بریگیڈیئر جنرل محمد ہادی حاجی رحیمی بھی شامل ہیں۔

پاسداران انقلاب نے اپنے مشیروں حسین امان اللہ، مہدی جلالاتی، محسن صداقت، اور علی آغا بابائی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ "مجرم اسرائیلی دشمن کی یہ کارروائی اپنی مسلسل شکستوں اور غزہ کے لوگوں کی ثابت قدمی کے بعد ہوئی ہے۔ دشمن غزہ جنگ میں قتل عام کے باوجود اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکا ہے"۔

دوسری جانب سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے ’اے ایف پی‘ کو ایک بیان میں کہا کہ ''ایرانی سفارت خانے سے ملحقہ عمارت پر اسرائیلی حملے میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ان میں آٹھ ایرانی ، دو شامی اور ایک لبنانی شامل ہے اور یہ سب فوجی تھے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے پیر کی شام کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں نے شام میں امریکی التنف بیس پر ڈرون سے حملہ کیا۔

آبزرویٹری نے کہا کہ مسلح گروپوں نے آج دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد اڈے کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے وضاحت کی "التنف بیس کے زمینی دفاع نے الکاتیبہ کے علاقے میں جو اڈے سے چار کلومیٹر دور ہے ایک خودکش ڈرون کو مار گرایا۔ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘‘۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ نے پیر کی شام کو رپورٹ کیا کہ گولان کے علاقے میں اس وقت سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیں جب شام کی طرف سے ایک طیارہ اسرائیلی سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں