فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی وزیر نے مظاہروں سے خبردار کرنے پر ’شین بیٹ‘ چیف کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تل ابیب، مقبوضہ یروشلم اور دیگر خطوں میں بار بار ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں اسرائیلی حکومت حماس کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچے تاکہ غزہ کی پٹی میں قید اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جا سکے جوسات اکتوبرسے قید میں ہیں۔

داخلی سکیورٹی ایجنسی ’شین بیٹ‘ ‘ کے سربراہ رونن بار نے آج بدھ کو کہا کہ پرتشدد مظاہرے ایک خطرناک موڑ کا باعث بن سکتے ہیں جن سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پرتشدد جھڑپیں

انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ "انٹرنیٹ پر پرتشدد بیان بازی اور کچھ مناظر جو ہم نے کل رات یروشلم میں دیکھے وہ قابل قبول احتجاج سے بالاتر ہیں اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچاتے ہیں"۔

’ٹایمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اس نے خبردار کیا کہ یہ مظاہرے قانون نافذ کرنے والے حکام کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کے کام کرنے کی صلاحیت میں خلل ڈال سکتے ہیں اور یہاں تک کہ تحفظ کے تحت افراد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں‘‘۔

انہوں نے زور دیا کہ "آئینی احتجاج اور پرتشدد اور غیر قانونی احتجاج کے درمیان ایک واضح لکیر ہے۔ یہ مظاہرے خطرناک سمتوں کی طرف بڑھ سکتے ہیں‘‘۔

دوسری جانب اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے ثقافت امیچائی الیاہو نے یروشلم میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے پس منظر میں شن بیٹ کے سربراہ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔

غزہ پر جنگ شروع ہونے کے بعد ہزاروں اسرائیلیوں نے کل منگل کو یروشلم میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لیا تاکہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا جائے اور اس پر زور دیا جائے کہ وہ ایک ایسا معاہدہ کریں جس سے تقریباً 130 قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے یروشلم کے مظاہروں سے (ایسوسی ایٹڈ پریس)
اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے یروشلم کے مظاہروں سے (ایسوسی ایٹڈ پریس)

غم وغصے کا ماحول

گذشتہ روز ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرشدد جھڑپیں ہوئیں۔ اسرائیلی عوامی حلقوں میں غم وغصے کی فضا پائی جا رہی ہے اور وہ وزیر اعظم کو غزہ میں قیدیوں کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ جنگ کو طول دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

دو دن قبل احتجاجی گروپوں نے گذشتہ اکتوبرکے بعد سے سب سے بڑے مظاہرے کا اہتمام کنیسٹ کے سامنے کیا جس میں موجودہ حکومت کو تبدیل کرنے کے لیے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں