فلسطین اسرائیل تنازع

رفح پر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اختلافات، درمیانہ حل کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اگرچہ جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح شہر پر حملہ کرنے کے متبادل آپشنز ابھی بھی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک مخمصے کا شکار ہیں، لیکن "معاملے کے درمیانے حل‘‘تک پہنچنے کی تیاری میں یہ تقسیم غالب پوزیشن پر ہے۔

متبادل آپشنز

امریکی نیوز ویب سائٹ "Axios" کے مطابق رفح حملے کے متبادل آپشنز پر بات کرنے کے لیے امریکی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں براہ راست علم رکھنے والے تین ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات واضح نظر آئے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ رفح شہر میں آپریشن جہاں دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی رہتے ہیں غزہ کی جنگ کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سب سے زیادہ متنازعہ مسئلہ بن گیا ہے۔

انہوں نےکہا کہ اس ہفتے کے شروع میں ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی ورچوئل میٹنگ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کو ویٹو نہ کرنے کے امریکہ کے فیصلے کے بعد ہوئی۔

امریکہ نے اس قرارداد کو ویٹونہیں کیا جس میں غزہ میں فوری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے مذاکرات میں امریکی فریق کی قیادت کی۔

جب کہ اسرائیل کی طرف سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی افراد اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر اور قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے شرکت کی۔

ملاقات میں دونوں اطراف سے کئی دفاعی، سیاسی اور انٹیلی جنس حکام نے بھی شرکت کی۔

ملاقات کے بارے میں براہ راست علم رکھنے والے دو ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ عملی اور تعمیری تھی۔ اختلافات کے باوجود دونوں فریقوں نے ایک مفاہمت تک پہنچنے کے مقصد سے سنجیدہ بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ میٹنگ کا ایک بڑا حصہ جنوبی غزہ شہر میں دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو نکالنے کے طریقوں پر مرکوز تھا۔

اسرائیلی فریق نے شہریوں کے انخلا کے حوالے سے اپنے عمومی خیالات پیش کرتے ہوئے جواب دیا۔ زمینی صورت حال کے لحاظ سے اس پر عمل درآمد میں کم از کم چار ہفتے اور شاید زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

امریکیوں نے اسے غیر حقیقت پسندانہ قراردیا اور اسرائیلیوں کو مطلع کیا کہ وہ مشن کی مشکل کو کم کر رہے ہیں۔

مشکل معاملہ اور درمیانہ حل

جہاں تک اختلافات کا تعلق ہے ذرائع نے وضاحت کی کہ امریکی حکام نے اپنے ہم منصبوں کو مطلع کیا کہ غزہ میں انسانی بحران جو پچھلے پانچ مہینوں کے دوران بگڑ گیا ہے۔ اس کے بعد رفح میں اسرائیل کی جانب سے شہریوں کا مؤثر اور منظم انخلا کرنے کی صلاحیت پر اعتماد پیدا نہیں کرتا۔

میٹنگ میں موجود ایک امریکی نمائندے نے کہا کہ مناسب طریقے سے منصوبہ بند اور سوچے سمجھے انخلا میں چار ماہ لگ سکتے ہیں۔

اسرائیلیوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔

اسی ذریعے نے مزید کہا کہ "یہ سب پر واضح ہے کہ ہمیں یہاں ایک سمجھوتہ تلاش کرنا پڑے گا۔"

سلیوان نے اجلاس میں اسرائیلیوں کو خبردار کیا کہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی انٹرم کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) تنظیم اگلے چند ہفتوں میں غزہ میں قحط کا اعلان جاری کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اکیسویں صدی کا بدترین المیہ ہوگا۔

اسرائیلیوں نے جواب دیا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ غزہ قحط کے دہانے پر ہے۔ اسرائیلی فوج کے پاس غزہ کی صورتحال کے بارے میں بہترین معلومات ہیں اور کہا کہ دیگر اندازے "غلط معلومات" پر مبنی ہیں۔

امریکا نے اسرائیلیوں کومطلع کیا کہ صرف اسرائیل کہتا ہے کہ غزہ قحط کے دہانے پر نہیں ہے۔ امریکہ نے واضح کیا کہ وہ اسرائیلی بیانیے سے متفق نہیں ہے۔ خاص طور پر شمالی غزہ کی صورت حال کافی پیچیدہ ہے۔

امریکہ نے رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے متبادل نقطہ نظر کے لیے اپنے ابتدائی خیالات بھی پیش کیے، جس میں رفح کو غزہ کی پٹی کے باقی حصوں سے الگ کرنا، مصر اور غزہ کے درمیان سرحد کو محفوظ بنانا، شہر میں حماس کے سینیر رہ نماؤں کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کرنا اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر چھاپے مارنا تاہم اسرائیل نے حماس کو رفح میں شکست دینے کے لیے فوجی آپریشن کی ضرورت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں