فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں سات امدادی کارکنوں کی بمباری سے ہلاکتوں پر اسرائیلی صدر نے معافی مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے منگل کے روز مختلف ملکوں سے آئے ہوئے امدادی کارکنوں کی اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر معافی مانگ لی ہے۔ اسرائیلی فوج نے امدادی کارکنوں کی گاڑی کو اس کے باوجود تاک کر بمباری کا نشانہ بنایا تھا کہ امدادی کارکنوں نے غزہ کے بھوک اور قحط زدہ فلسطینیوں میں خوراک تقسیم کرنے سے پہلے اسرائیل کی فوج کو اپنی موجودگی اور سرگرمی سے آگاہ کر رکھا تھا۔

اس بمباری کے نتیجے میں سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت ہو گئی۔ جن میں آسٹریلیا کی ایک خاتون بھی شامل تھی۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم نے اسرائیل سے اس بارے میں وضاحت طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ لندن میں اسرائیلی سفیر کو برطانوی وزارت خارجہ میں طلبی بھگتنا پڑی ہے۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے امریکی ادارے 'ورلڈ سنٹرل کچن' کے سربراہ اور اس امدادی مشن کی نگرانی کرنے والے جوز اینڈرس سے بات کرتے ہوئے گہرے غم کا اظہار کیا ہے اور ان سے ان سات قیمتی جانوں کی بمباری سے ہلاکت پر معافی مانگی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج اب تک کئی بار بھوک اور قحط زدہ فلسطینی عوام کو خوراک کے حصول کے دوران بمباری اور فائرنگ کا نشانہ بنا کر بیسیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر غزہ میں 32916 سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ جن میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے اس واقعہ پر معافی مانگے بغیر یہ کہا تھا کہ اس افسوس ناک واقعے کی تحقیقات ہوں گی اور اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا تھا کہ یہ واقعہ جنگ کے دوران ہوا ہے۔ ہم کوشش کریں گے جو ہمارے لیے ممکن ہے کہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔ گویا انہوں نے اس پر کوئی شرمندگی ظاہر کرنے کے بجائے جنگی ماحول کا فطری واقعہ قرار دے کر مٹی ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی طرف سے بنائی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی کی چھت جس پر امدادی کارکنوں کے امدادی گروپ کا لوگو بھی نمایاں لگا ہوا ہے، وہ جل گئی ہے اور چھت میں ایک سیاہ گڑھا بن چکا ہے۔ جبکہ دوسری گاڑیوں کا ملبہ بھی آس پاس پڑا ہے۔

امریکی ادارے 'ورلڈ سنٹرل کچن' نےاس سے پہلے اس واقعہ کو اسرائیلی فوج کا 'ٹارگٹڈ حملہ' قرار دیا تھا۔ جس میں پیر کی صبح اس کا عملہ ہلاک ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں آسٹریلیا، برطانیہ، فلسطین، پولینڈ، امریکہ اور کینیڈا کے شہری شامل ہیں۔

واضح رہے غزہ سات اکتوبر سے مکمل فوجی محاصرے میں ہے اور اسرائیلی فوج امدادی کارکنوں اور قافلوں کو بھی جگہ جگہ روکتی ہے اور جب چاہے نشانہ بنا لیتی ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے غزہ میں بدترین قحط سے آگاہ کر رہے ہیں۔

تاہم اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ اسرائیل انسانی بنیادوں پر امداد کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے۔ تاکہ غزہ کے لوگوں کو خوراک مل سکے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بھی منگل کے روز اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاکہ امدادی کارکنوں کو محفوظ انداز سے اپنا کام کرنے کا موقع مل سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں