قونصل خانے پر حملے کے جواب میں ایران اسرائیل کو براہ راست نشانہ نہیں بنائے گا: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر پیر کا اسرائیلی فضائی حملہ 2020 میں قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی امریکہ کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ایران کے لیے سب سے بڑا دھچکا تھا۔ نہ صرف ہلاکتوں بلکہ اس وجہ سے بھی یہ حملہ اضافی اہمیت کا حامل تھا کہ اس نے ایک ایرانی سفارتی مرکز کو نشانہ بنایا جس کی بنا پر یہ مؤثر طریقے سے اسرائیل کی طرف سے ایرانی سرزمین پر حملہ تھا۔

تہران کے سفیر کے مطابق ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ذریعے کیے گئے اس حملے میں ایرانی سفارت خانے سے متصل قونصل خانہ مسمار ہو گیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے 13 ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جن میں ایران کے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے سات ارکان اور چھ شامی شہری شامل ہیں۔

ہلاک شدہ آئی آر جی سی کے ارکان میں دو اعلیٰ سطحی کمانڈر شامل تھے: محمد رضا زاہدی اور ان کے نائب محمد ہادی حاجی رحیمی۔ زاہدی جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بنیادی ہدف تھے، نے طویل عرصے تک شام اور لبنان میں قدس فورس – آئی آر جی سی کی غیر ملکی کارروائیوں کی شاخ – کی کارروائیوں کی نگرانی کی تھی۔

ان اعلیٰ کمانڈروں کی ہلاکت اور ایک ایرانی سفارتی مرکز پر حملے سے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔ اکتوبر میں غزہ جنگ کے آغاز سے کئی اعلیٰ فوجی شخصیات کا نقصان برداشت کرنے کے باوجود ایران نے اسرائیل پر براہِ راست حملوں سے گریز کیا ہے۔

آئی آر جی سی کے مقتول کمانڈر محمد رضا زاہدی۔ (فائل فوٹو)
آئی آر جی سی کے مقتول کمانڈر محمد رضا زاہدی۔ (فائل فوٹو)


یہ پابندی ممکنہ طور پر 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے ہی اسلامی جمہوریہ کی بنیادی توجہ اپنے تحفظ پر مرکوز ہونے کی وجہ سے ہے۔ اسرائیل اور اس کے بنیادی حامی امریکہ کے ساتھ ایک صریح جنگ ایرانی حکومت کی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جائے گی۔

جنوبی کیرولائنا کی کلیمسن یونیورسٹی میں تاریخ اور سیاسیات کے سینئر لیکچرار آرش عزیزی نے العربیہ کو بتایا کہ ایران کی جانب سے اسرائیلی اہداف بالخصوص اہم مقامات کے خلاف براہِ راست کارروائی کا امکان نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو جن کا ملک تقریبا چھ ماہ سے غزہ میں ایران کے حمایت یافتہ فلسطینی گروپ حماس کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے، عزیزی نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوابی کارروائی کے دباؤ کا سامنا کرنے کے باوجود ایران اس چیز سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے جس کو انہوں نے "نیتن یاہو کا چارہ" کہا ہے۔

اسرائیل جو شام میں ایران سے منسلک اہداف کے خلاف مسلسل فضائی حملوں کے لیے مشہور ہے، نے اس حملے کے حوالے سے اپنی روایتی خاموشی برقرار رکھی۔ تاہم نیویارک ٹائمز کے حوالے سے نامعلوم اسرائیلی حکام نے اسرائیل کی ذمہ داری کو تسلیم کیا۔

منگل کو ایران کے اعلیٰ ترین رہنما علی خامنہ ای نے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا، "[اسرائیل] کو ہمارے بہادر آدمیوں کے ہاتھوں سزا ملے گی۔ ہم اسے اس جرم اور اس سے سرزد ہونے والے دیگر جرائم پر شرمندہ کریں گے۔"

کچھ لوگوں نے قیاس کیا ہے کہ آیا خامنہ ای کا "ہمارے بہادر آدمیوں" کا حوالہ پراکسیوں کے بجائے براہِ راست ایرانی جوابی کارروائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ایران کے اعلیٰ ترین رہنما علی خامنہ ای کے دفتر کی فراہم کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں وہ 20 مارچ 2024 کو تہران میں فارسی سالِ نو نوروز کے موقع پر قوم سے خطاب کر رہے اور سالانہ وعظ دے رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
ایران کے اعلیٰ ترین رہنما علی خامنہ ای کے دفتر کی فراہم کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں وہ 20 مارچ 2024 کو تہران میں فارسی سالِ نو نوروز کے موقع پر قوم سے خطاب کر رہے اور سالانہ وعظ دے رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

تاہم یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران میں آئی آر جی سی ریسرچ کے ڈائریکٹر کسریٰ اعرابی نے خامنہ ای کے بیان کی اس تشریح سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی رہنما شرقِ اوسط کو "قومی ریاستوں کے ذریعے نہیں بلکہ 'امام و امت' کے نظریئے سے دیکھتے ہیں۔"

اعرابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی، "خامنہ ای خود کو امام اور تمام پراکسی مزاحمت کاروں کو امام کا سپاہی سمجھتے ہیں۔ اس طرح انہیں خامنہ ای کے لیے ’ہمارے آدمی‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ اسرائیلی حملہ اسرائیل کے خلاف براہِ راست جنگ یا حملے کا باعث بنے گا۔ "آئی آر جی سی کے پاس نہ تو اسرائیل کے ساتھ براہِ راست جنگ کا نظریہ ہے اور نہ ہی صلاحیت بالخصوص جب ایران میں ملکی عدم استحکام اتنا زیادہ ہو جتنا کہ اس وقت ہے۔"

اسرائیل کے ایک ایرانی سفارتی تنصیب کو غیر معمولی طور پر نشانہ بنانے کے اقدام نے توجہ مبذول کرائی ہے، بنیادی طور پر اس وجہ سے کہ یہ تکنیکی طور پر ایرانی سرزمین پر حملہ ہے۔ لیکن اسرائیل نے حالیہ برسوں میں براہِ راست انتقامی اقدامات کا سامنا کیے بغیر ایرانی حدود میں مختلف کارروائیاں کی ہیں۔

مثلاً 2020 میں ایران کے اعلیٰ جوہری سائنسدان محسن فخر زادہ کو ایران میں ایک حملے میں قتل کر دیا گیا تھا جو تہران نے اسرائیل سے منسوب کیا تھا۔

اسرائیل کی ریخ مین یونیورسٹی میں ایرانی سیاست پڑھانے والے میر جاویدنفر کا بھی خیال ہے کہ اسرائیل کے خلاف براہِ راست ایرانی ردعمل کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے ایران کی اقتصادی کمزوریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، اسرائیل کے ساتھ جنگ ایران کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

جاویدنفر نے العربیہ کو بتایا، "اسرائیل کے خلاف جنگ کا معاشی دباؤ ایرانی معیشت کو پاتال کے کنارے پر دھکیل سکتا ہے۔ اور یہ کوئی ایسا خطرہ نہیں جو منطقی طور پر خامنہ ای لینا چاہیں گے۔"

اس لیے جاویدنفر نے مشورہ دیا کہ ایران خود اسرائیل کے ساتھ براہِ راست ملوث ہونے کے بجائے اسرائیل یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی پراکسیز پر انحصار کرنے پر زیادہ مائل ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یکم اپریل 2024 کو دمشق، شام میں ایران کے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔ (رائٹرز)
ایرانی میڈیا کے مطابق یکم اپریل 2024 کو دمشق، شام میں ایران کے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔ (رائٹرز)

ماضی میں ایران نے عراقی کردستان میں ان مقامات کو نشانہ بنا کر اسرائیلی حملوں کا جواب دیا ہے جن پر وہ الزام لگاتا ہے کہ ان کا تعلق اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد سے ہے۔

تاہم تازہ ترین اسرائیلی حملے کی نوعیت پر غور کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی ایک مختلف اور ممکنہ طور پر زیادہ طاقتور شکل اختیار کرنے کی صورت میں اسلامی جمہوریہ کو اپنے حامیوں کی جانب سے اندرونِ ملک دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایران میں اعلیٰ حکام جو عموماً اپنے عوامی بیانات میں امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں، نے اس حملے کے لیے واشنگٹن کی طرف انگلی اٹھائی ہے۔

اسرائیلی حملے کے چند گھنٹوں بعد ایکس پر پوسٹ میں وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایران اپنے قونصل خانے پر حملے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتا ہے اور مزید کہا، "امریکہ سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔"

خامنہ ای کے ایک مشیر علی شمخانی نے اپنے جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ "براہِ راست ذمہ دار ہے چاہے وہ اس حملے کے ارادے سے واقف تھا یا نہیں۔"

تاہم امریکی حکام نے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس حملے میں واشنگٹن کا کوئی کردار نہیں تھا۔

ایران اپنے پراکسیوں کو عراق اور شام میں امریکی افواج پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا حکم دے کر جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس طرح کے حملے جنوری کے آخر تک اکثر ہوتے رہے جب واشنگٹن نے اردن میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں شام اور عراق میں ایران اور اس سے وابستہ ملیشیاؤں کے اہداف پر متعدد فضائی حملے کیے تھے۔

پیر کو اسرائیلی حملے کے بعد شام میں امریکی افواج نے التنف فوجی مرکز کے قریب ایک یک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرون کو روک دیا۔ تاہم امریکی حکام نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ مرکز مطلوبہ ہدف تھا۔

ڈرون کی اصلیت اور اس کے داغنے کی ذمہ دار پارٹی ابھی تک واضح نہیں ہے حالانکہ پینٹاگون کی ڈپٹی پریس سکریٹری سبرینا سنگھ نے اسے آئی آر جی سی کی حمایت یافتہ ملیشیا سے منسوب کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں