کیا ایرانی سفارت خانے پربمباری پاسداران انقلاب کو شام سے نکل جانے پر مجبور کرے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج کی جانب سے F-35 لڑاکا طیاروں کے ذریعے شام میں قائم ایرانی سفارت خانے پر داغے گئے 6 میزائلوں سے کئے گئے حملے نےایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اگرچہ اسرائیل نے پچھلے چند مہینوں کے دوران شام اور لبنان میں ایرانی القدس ملیشیا کےخلاف متعدد فضائی حملے کیے ہیں مگر دمشق میں ہونے والا حالیہ حملہ سب سے زیادہ تباہ کن اور مہلک ثابت ہوا۔ اس حملے میں ایک ایرانی بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی اپنے پانچ سینیر اہلکاروں سمیت مارا گیا۔

اگرچہ یہ حملہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج نے شام میں بہت سے "ایرانی اہداف" پر بمباری کی۔ ایرانی سفارت خانے کی عمارت جہاں ایرانی پرچم لہرا رہا تھا بین الاقوامی قانون کے تحت ایرانی علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ دوہرا حملہ ہے۔اس میں بہ یک وقت شامی اور ایرانی سرزمین پر کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی انتہائی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کارروائی کے بعد کئی سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں کہ آیا اس حملے نے سرخ لکیریں عبور کیں۔ جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تہران کا ردعمل اس کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی سطح پر ہو سکتا ہے۔

امریکی اڈوں پر حملے

دریں اثنا ایرانی مصنف آرش عزیزی نے کہا ہے کہ "ایران اس کا جواب خطے میں امریکی افواج کے کچھ ٹھکانوں پر حملہ کر کے امریکی جانی نقصان کے بغیر دے گا"۔

انھوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "تہران کو اس حقیقت سے نمٹنا چاہیے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ڈیٹرنس کی اپنی صلاحیت کھو چکا ہے اور اسے جواب دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اسے اس حقیقت کا بھی سامنا کرنا چاہیے کہ وہ وسیع پیمانے پرجنگ میں داخل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔ اگر تہران اسرائیل کے ساتھ تصادم کو بڑھاتا ہے تو اس کی قیمت بہت زیادہ ہوگی"۔

عزیزی نے کہا کہ "ایران نے خطے میں اسرائیل کے ساتھ وسیع جنگ سے بچنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اپنی ساکھ اور سیاسی تاریخ کو بچانے کے لیے اب جنگ چاہتے ہیں"۔

دمشق میں ایرانی قونصلیٹ کی ویب سائٹ سے

تاہم انہوں نے مشورہ دیا کہ "تہران اس سے گریز کرتا رہے گا۔ مزید جنگوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہا ہے"۔

شام سے پاسداران انقلاب کو نکالنا!

ایرانی تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ "ایرانی قونصل خانے سے تعلق رکھنے والی عمارت پر اسرائیلی حملہ خود مختار ایرانی سرزمین پر براہ راست حملہ ہے (جیسا کہ تمام سفارت خانوں کا معاملہ ہے)۔ اس لیے اسے ایران کے جنگ میں وسیع تر داخلے کے لیے اکسانے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تنازعے کے دوران یہ حملہ ایک خطرناک قدم سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات بعد میں پاسداران انقلاب کی افواج کو شام سے ہٹانے کی شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔

اس تناظر میں آرش عزیزی نے نشاندہی کی کہ "شام طویل عرصے سے ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک سایہ دار جنگ کا میدان رہا ہے لیکن اب یہ پہلے سے زیادہ حقیقی جنگ کا میدان بن گیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے شام کی سرزمین پر اپنے حالیہ حملوں میں پاسداران انقلاب کے 50 کے قریب دستوں کو ہلاک کیا۔

ان کا خیال ہے کہ "شام کی حکومت جو دوسرے عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے کو کوئی اعتراض نہیں کہ ایران وہاں سےنکل جائے۔ وہ درحقیقت اپنی سرزمین سے بہت سی ایرانی افواج کے نکلنے کا خیرمقدم کرتی ہے"۔

شام میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے داخلے کے بعد سے تہران اور تل ابیب دونوں کے مفادات کے حصول کے لیے ایک اہم تھیٹر میں تبدیل ہو گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پاسداران انقلاب نے پیر کی شام (یکم اپریل 2024) کو قدس فورس کے کمانڈر محمد رضا زاہدی اور بریگیڈیئر جنرل محمد ہادی حاجی رحیمی کے ساتھ ساتھ مشیران حسین امان اللہی، مہدی جلالی، محسن صداقت، علی آغا باباعی اور سید علی صالحی روزبہانی کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں