فلسطین اسرائیل تنازع

کیا نیتن یاہو اسرائیلی عوام کی بڑھتی ہوئی ناراضگی میں حکومت بچا سکیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیل میں سب سے زیادہ بار وزیر اعظم بننے والے ماہر سیاست کار نیتن یاہو جو کئی بار اقتدار سے محروم ہو چکے ہیں۔ کیا اس بار اپنے سیاسی مستقبل اور حکومت کو بچا سکیں گے؟ یہ سوال اس سبب اٹھنے لگا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی بد ترین جنگ کے دوران ہی نیتن یاہو کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں ناراض اسرائیلی مظاہرین سڑکوں کو متواتر نکلنے لگے ہیں۔

پچھلے ہفتے سے مسلسل ہر رات ہزاروں اسرائیلی شہری نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف غم و غصے کے لیے سخت مخالفانہ نعروں کے ساتھ ہجوم در ہجوم سڑکوں پر نظر آرہے ہیں۔ اس لیے اس احتجاج کے اس تسلسل اور غصے کی شدت کو دیکھنے والے حیران ہو کر سوچتے ہیں کہ نیتن یاہو اس عوامی غیظ وغضب کے سامنے کب تک اپنا اور اپنی حکومت کا بچاؤ کرنے میں کامیاب رہ سکیں گے؟

عام طور پر تیز طرار 74 سالہ نیتن یاہو آج کل جسمانی اور سیاسی دونوں اعتبار سے کمزور لگ رہے ہیں۔ آج ان پر چار فیصد سے زیادہ اسرائیلی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ جائزہ پچھلے سال کے اواخر میں سامنے آیا تھا۔

غزہ کی جنگ جیسے جیسے لمبی ہوتی جارہی ہے نیتن یاہو جسے اسرائیلی بی بی کہتے ہیں اسے اور اس کی سیاست پر اثر انداز ہورہی ہے۔ بظاہر زیادہ کمزور بھی اور جزباتی و غصیلے پن کا شکار ہورہے ہیں۔ہفتے کے روز ایک ٹیلی ویژن پر ایک تقریر کے دوران ایسا زیادہ محسوس ہوا، اس پر نیتن یاہو کے ان کے سابق وزیر اور لیکود کے ساتھی Limor Livnat نے بھی صورت حال کو تباہ کن قرار دیا ہے۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنےوالے اسرائیلی اہم اخبار ' ہارٹز' نے نیتن یاہو کی اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ' خوفزدہ ظالم 'کا لقب دیا ہے۔ نیتن یاہو منگل کے روز ہسپتال سے ہرنیا کا آپریشن کرانے کے بعد نکلے تو وہ زیادہ غصے میں تھے تاکہ سات غیر ملکی امدادی کارکنوں کی ہلاکت پر بین الاقوامی کمیونٹی کا سامنا کر سکیں۔

اس لیے انہوں نے کہا ' یہ جنگ میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یقینا نیتن یاہو کی طرف سے اس واقعے پر تبصرے کے لیے اختیار کیا گیا ان کا یہ طریقہ واردات وائٹ ہاؤس میں پسند کے جانے والا نہیں ہے۔ کہ اس پر وائٹ ہاؤس کی طرف سے ان سات ہلاکتوں پر کہا گیا ہے 'یہ دل توڑنے والے والا واقعہ ہے۔'

لیکوڈ پارٹی کے سابق رکن اور سیاسیات کے استاد پروفیسر ایمانوئل نیوان کے مطابق نیتن یاہو کئی بار سیاسی طور پر دفن ہو چکے ہیں اور بار بار واپس آچکے ہیں۔ تاہم پروفیسر کے مطابق ' اب کی بار سات اکتوبر کے بعد یہ ملک بدل چکا ہے اور حالات بھی بدل چکے ہیں۔ اب ' بی بی ' کا دور لد چکا ہے۔'

پروفیسر ایمانوئیل نیوان نے کہا ' اب 74 سالہ نیتن یاہو کوئی ورزش بھی نہیں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی صحت اور عمر ہے، مگر انہیں ایک مشکل چیلنج کا سامنا ہے۔ صرف چھ ماہ قبل انہوں نے اپنے دل کی دھڑکن نارمل رکھنے کے لیے ' پیس میکر ' بھی لگوایا ہے۔'

پروفیسر نیوان نے انہیں سات اکتوبر کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا ۔ انہیں یاہو پر یہ بھی سوچتے ہیں کہ یرغمالیوں کے اہل خانہ کے احتجاج اور غصے کے ہوتے ہوئے نیتن یاہو کو عوامی احتجاج کی اس لہر کے دوران وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے غزہ میں ابھی تک قید 134 یرغمالیوں میں سے ایک کی والدہ ایناو زنگاؤکر نے احتجاج کی مسلسل چوتھی رات یروشلم میں پارلیمنٹ کے باہر نیتن یاہو کو 'فرعون اور بچوں کا قاتل 'قرار دیا۔

پروفیسر ایمانوئل نیوان کا کہنا ہے ' یرغمالیوں کے خاندان اور حکومت مخالف مظاہرین باہم متحدہ ہو گئے ہیں۔ یہ عدالتی اصلاحات انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے متنازعہ عدالتی دائرہ اختیار میں کمی کی حکومتی کوششیں روکنے کے لیے گزشتہ سال سڑکوں پر نو ماہ گزار چکے ہیں۔ مگر اب سات اکتوبر کی تباہی نے بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے۔ اب نیتن یاہو بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو کا قائل ہے۔'

پروفیسر ایمانوئل نیوان کے مطابق ' اب ایسا لگتا ہے کہ دشمن اسرائیل کی سب سے بڑی دائیں بازو کی حکومت کے رہنما کے گرد اس طرح چکر لگا رہے ہیں جیسے پہلے کبھی نہیں تھے۔ جنگ کے باوجود اس کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کو عدالت میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ جبکہ سڑکوں پر عوام جلوس نکال رہے ہیں اور محض چار دنوں میں منگل کے روز دوسری بار دوسری بار ان کے گھر کے سامنے جانے کے لیے پولیس کی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی ہے۔

انہیں یہ بھی اچھی علامت نہیں لگتی ہیں کہ موجودہ وزیر دفاع یواو گیلنٹ، الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کے لازمی فوجی خدمات سے فرار ہونے کے مسئلے پر یاہو کی مخالفت کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ غزہ میں جنگ چھڑ گئی ہے اور لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ ایک اور جنگ چھڑ رہی ہے تو بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ طویل عرصے سے حکومت قائم کرنے کے لیے نیتن یاہو طویل عرصے سے حکومت کرنے کے لیے مذہبی جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرنے والے نیتن یاہو کے لیے مسائل بڑھائے جارہے ہیں۔ '

اسرائیلی فوج کے سابق جنرل ریوین بینکلر نے ایک حکومت مخالف ریلی میں 'اے ایف پی ' سے کہا کو جب فوج کو جنگ میں اتنی زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہو تو ایک پوری کمیونٹی کو معاف کرنا ناقابل معافی ہے ۔'

جنرل (ر) بینکلر نے مزید کہا ' نیتن یاہو کے اقتدار میں موجود رہے تو یرغمالی گھر نہیں آ سکیں گے۔' انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لیے غزہ میں جنگ کو گھسیٹ رہے ہیں- اہم بات یہ ہے کہ احتجاجی مظاہرین نے یہ دعویٰ مسلسل دہرایا ہے۔

دوسری جانب پروفیسر ایمانوئل نیوان نے کہا ' اسرائیل کی سیاست پر نیتن یاہو کی تین دہائیوں کی گرفت 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی حکمت عملی کے بدولت رہی ہے۔ نیز نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ صرف وہی ملک کو محفوظ رکھ سکتا ہے، اس کا یہ دعویٰ سات اکتوبر نے خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں