اسرائیل کو کنٹرول نہ کر کے جنگ کو پھیلانے کا ذمہ دار امریکہ ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوموارکو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پرحملے میں متعدد ایرانیوں کی ہلاکت کےبعد تہران کی جانب سے اس حملے کا بدلہ لینے کی دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اس حملےکی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے امریکہ کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو کنٹرول نہ کرکے کشیدگی کے دائرہ کار کو بڑھا رہا ہے۔

عبداللہیان نے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر امریکہ اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے جنگی جرائم پر قابو پانے اور اس کی حمایت کو روکنے کے لیے سنجیدہ ارادہ نہیں رکھتا ہے تو اس کی براہ راست ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کا دائرہ وسیع کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یورپی حکام ہمیشہ ایران سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کرتے ہیں، جب کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے برعکس ایک سفارتی مقام پر حملہ کیا جسے سفارتی اور قونصلر حقوق کے کنونشن کی بنیاد پر مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔"

دمشق میں ایرانی قونصلیٹ کی ویب سائٹ سے

ایجنسی نے ان کے حوالے سے مزید کہا کہ "یورپی یونین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان جرائم کی حقیقت پسندانہ اور فوری طور پر مذمت کرے گی"۔

اس حملے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں: امریکہ

منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکہ اس فضائی حملے میں ملوث نہیں تھا جس نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنایا، جس کی تہران نے ذمہ داری اسرائیل سے منسوب کی۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ "ہمارا دمشق میں ہونے والے حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم اس میں کسی بھی طرح ملوث نہیں"۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی بیانات کو "بکواس" قرار دیا۔ امیر عبداللہیان نے امریکہ کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے 7 ارکان سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے۔

جواب میں پینٹاگان کی نائب ترجمان سبرینا سنگھ نے کہا کہ امریکی افواج نے اس حملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ر یہ کہ امریکہ نے تہران کو نجی چینلز کے ذریعے اس کی اطلاع دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں