امریکی فوج کا حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی فوج نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں جہازوں کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل اور دو بمبار ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحیرہ احمر کشیدگی کی لپٹی میں ہے جب کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ اسرائیل کی ملکیت یا اسرائیل کی طرف جانبے والے کارگو جہازوں پر فلسطینیوں کی حمایت میں حملے شروع کیے ہیں۔

آج بدھ کواس نے امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔ انہیں حوثیوں نے یمن سے بحیرہ احمر کی طرف داغا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

اس نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ " امریکی سینٹرل کمانڈ فورسز نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے موبائل سسٹم کو تباہ کر دیا"۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "امریکی سینٹرل کمانڈ نیوی گیشن کی آزادی کے تحفظ اور بین الاقوامی پانیوں کو اتحادیوں اور تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے"۔

تقریباً 73 جہازوں کو نشانہ بنایا

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 19 نومبر سے حوثیوں نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں تقریباً 73 بحری جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل سے منسلک ہیں یا اس کی بندرگاہوں کی طرف جانے والےجہازوں کو فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ سے اظہار یکجہتی کے طور پر نشانہ بنا رہی ہیں۔

حوثیوں کے بڑھتے حملوں کی وجہ سے کمپنیوں کو افریقہ کے ارد گرد طویل اور زیادہ مہنگے راستے پر جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں