ایران میں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والی" جیش العدل" کون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ مسلح افراد نے جنوب مشرقی ایران میں سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے دو الگ الگ حملوں میں کم از کم 5 ایرانی سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 10 دیگر کو زخمی کر دیا۔

رپورٹس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ "جیش العدل" گروپ کے بندوق برداروں کی طرف سے کیے گئے دو حملوں میں رات کے وقت صوبہ سیستان اور بلوچستان میں راسک اور چابہار میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم 15 جنگجو مارے گئے۔

"جیش العدل" ایک مسلح گروہ ہے جو جنوب مشرقی ایران اور مغربی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرگرم ہے۔

جنوری میں ایران نے پاکستان میں گروپ کے دو اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس پر اسلام آباد کی جانب سے فوری فوجی ردعمل کا سامنا کیا گیا۔ پاکستان نے ایران میں موجود علاحدگی پسند بلوچ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

"جیش العدل‘‘ کون ہے؟

"جیش العد" تنظیم ایک بلوچ مسلح گروپ ہے جو ایرانی حکومت کی مخالف ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں بلوچوں کے قومی حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ ایرانی حکومت اور امریکہ سمیت مغربی حکومتیں اس گروپ کو دہشت گردقرار دیتی ہیں۔

’جیش العدل‘ گروپ 2012ء میں ابھرا اور اس میں بنیادی طور پر جنداللہ مسلح گروپ کے ارکان شامل ہیں، جو ایران کی جانب سے اس کے بیشتر ارکان کی گرفتاری کے بعد کمزور ہو گیا تھا۔

ایران مخالف گروپ مشرقی ایران کے صوبہ سیستان اور جنوب مغربی پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی آزادی چاہتا ہے۔ یہ اہداف دونوں حکومتوں کے لیے مشترکہ چیلنج ہیں۔

یہ تنظیم خود کو ایران بالخصوص صوبہ سیستان میں سنی حقوق کی محافظ کے طور پر بیان کرتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران میں بلوچوں کی تعداد مشرقی اور جنوب مشرقی ایرانی صوبوں میں تقریباً 4 سے 5 ملین ہے اور وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ملحقہ صوبہ سیستان بلوچستان میں اکثریت رکھتے ہیں۔

بلوچستان میں "جیش العدل " کی موجودگی کی وجوہات؟

اس گروہ کے ارکان کا تعلق بلوچ نسلی گروہ سے ہے اور وہ سرحد کے دونوں طرف رہتے ہیں۔

پاکستان کا اصرار ہے کہ اس گروپ کی صوبے یا کسی اور جگہ کوئی منظم موجودگی نہیں ہے، لیکن اس نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ عسکریت پسند بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں چھپے ہو سکتے ہیں، جو کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور طویل عرصے سے شورش کی وجہ سے حساس ترین صوبہ سمجھا جاتا ہے۔

علیحدگی پسند اور قوم پرست امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں اور اپنے صوبے کے وسائل اور دولت کا منصفانہ حصہ چاہتے ہیں۔

"جیش العدل" ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا باعث کیوں ہے؟

ایران اور جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان طویل عرصے سے مسلح حملوں کے بارے میں شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ایرانی اور پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر عسکریت پسندوں کی طرف آنکھیں بند کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی موجودگی کے بارے میں ایران کے ساتھ شواہد شیئر کیے ہیں، جہاں وہ پاکستانی فورسز پر سرحد پار سے حملے کر رہے ہیں۔

پاکستان نے کہا کہ اس نے جیش العدل کے کچھ ارکان کو گرفتار کیا کیونکہ وہ ایران میں متعدد حملوں کے ذمہ دار تھے۔

یہ گروپ اکثر پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتا ہے اور عسکریت پسند پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، جہاں حکام سرحد کو محفوظ بنانے اور مزید چوکیاں قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں