ہمیں حماس رہ نماؤں کے اشتعال انگیز بیانات کی ضرورت نہیں: اردنی رہ نما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اردنی سینیٹ کے چیئرمین فیصل الفایز نے کہا کہ اردن فلسطین کا سب سے قریب ہے اور ہمیشہ فلسطینی کاز اور فلسطینی عوام کے حقوق کے ساتھ کھڑا ہے۔

الفائز نے العربیہ چینل کو دیے گئےبیان میں کہا کہ اردنی اور ان کی ہاشمی قیادت 1936ء میں فلسطینی انقلاب کے آغاز سے لے کر اب تک فلسطینی عوام اور ان کے کاز کے ساتھ رہے ہیں، جس میں اردنی قبائل کے رضاکاروں نے حصہ لیا۔ اس انقلاب میں اور اس کی حمایت کی اور عزت مآب مرحوم شاہ عبداللہ اول اور اردنی مسلح افواج، عرب فوج، اردنی قبائل کے رضاکاروں کے ساتھ اور 1948 کی جنگ میں مغربی کنارے صہیونیوں کے خلاف جنگ میں فلسطینیوں کی مدد کی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "اردنیوں کو حماس کے رہ نماؤں کے بیانات کی ضرورت نہیں ہے، جو اردنیوں سے فلسطینی کاز کی حمایت میں متحرک ہونے اور سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

الفایز نے مزید کہا کہ "شاہ حسین بن طلال مرحوم مسئلہ فلسطین کے پہلے محافظ تھے اور آج عالی شان شاہ عبداللہ دوم فلسطین کے مسئلے کو ترجیحات میں سرفہرست رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردن کا موقف مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک باوقار موقف تھا اور یہ مختلف ممالک کے موقف سے آگے ہے۔

فیصل الفایزنے زور دے کر کہا کہ جب غزہ پر اسرائیلی جارحیت شروع ہوئی تو اردنی عوام کے مختلف گروپ، تمام پس منظر اور اصلیت سے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی کاز اور غزہ کے عوام کی حمایت میں نکل آئے اور انہوں نے پرامن مظاہرے کئے۔ اس وقت اردنی عوام اور حکومت کا فلسطینی کاز کےحوالے سے موقف ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسا گروہ ہے جو افراتفری اور انتشار کا بیج بونا چاہتا ہے۔ اردن کی پوزیشن کے بارے میں جھوٹ پھیلانا چاہتا ہے، لیکن میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ اردنی ریاست ایک مضبوط ریاست ہے، ناقابل تسخیر ریاست ہے اور ایک گہری ریاست ہے۔ انتشار پھیلانے والےاپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ متحرک ہونے اور اردن کو جنگی علاقے میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ اردن کا معاشرہ توازن پر قائم ہے اور اردن کے سماجی ڈھانچے کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ فلسطینی کاز یا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

الفائز نے کہا کہ "یہ درست ہے کہ اردن مسئلہ فلسطین کا سب سے قریب ہے، اور فلسطین اور فلسطینی عوام کے قریب ہے قطع نظر اس کے اردن کے تمام عوام فلسطینی کاز کے ساتھ ہیں اور فلسطینی نصب العین کے بارے میں شدید جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں حماس اور اس کے قائدین سے کہتا ہوں جو اردن کے گلی کوچوں میں پیغامات بھیج رہے ہیں کہ وہ اردن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے فلسطین اور اردن کے درمیان مفاہمت کی کوشش کریں جو ان کے لیے بہتر ہے۔ فلسطینی مزاحمتی دھڑوں کے درمیان اب گہرا اختلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردنی عوام کو اشتعال دلانا فلسطینی کاز کی نہیں بلکہ اسرائیل کی خدمت کرنے کے مترادف ہے۔

سرحدیں کھولنے اور مظاہروں میں اعلان جنگ سے متعلق سوال کے جواب میں الفایز نے کہا کہ مجھے یہاں 1967ء کی جنگ یاد آرہی ہے اور میں کہتا ہوں کیا جنگیں جذبات سے لڑی جاتی ہیں؟۔ 1967ء میں جذبات نے کیا کیا؟ جب اس جنگ کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی تو اس وقت کے عرب گلی کوچوں اور عرب حکومتوں پر حاوی ہونے والے جذبات گولان، مغربی کنارے اور سیناء کو کھونے کا باعث بنے اور اب وہ ہم سے سرحدیں کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ جنگوں کے لیے منصوبہ بندی اور جنگ میں ہر فریق کی صلاحیتوں اور طاقت کا حقیقی علم ہونا ضروری ہے۔ اس لیے سرحدیں کھولنے اور جذبات کو متحرک کرنے سے مزید افراتفری کے سوا کچھ نہیں ہو گا ۔یہ ایک ایسا پیغام ہے جو تمام متعلقہ افراد تک پہنچنا چاہیے۔ ہمیں جذبات سے دور ہو کر عقلمندی اور فہم وفراست سے کام لینا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں