فلسطین اسرائیل تنازع

"اسرائیلی فوج نے سات امدادی کارکنوں کو منظم طریقے سے بمباری کا ہدف بنایا "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ادارے ' ورلڈ سینٹرل کچن' کے بانی اور سربراہ جوز اینڈریس نے بڑے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اسرائیلی فوج کو اپنی ٹیم کے سات امدادی کارکنوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بڑے منظم طریقے سے ہمارے کارکنوں کو بمباری کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا ہے۔

اس امر کا ظہار انہوں نے ' رائٹرز ' کے ساتھ ایک ویڈیو انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ انہوں نے اس اظہار افسوس کو رد کر دیا کہ جس میں محض یہ کہہ کر جان چھڑا لی جائے کہ افسوس ہوا۔ بد قسمتی ہوئی کہ بم غلط جگہ پر گرا دیے گئے۔' ہم پوری طرح اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطے میں تھے ۔ اسرائیلی فوج ہمارے امدادی کارکنوں کی نقل و حمل سے پوری طرح آگاہ تھی۔'

'ورلڈ سینٹر کچن' کے سربراہ نے کہا ' اگر ہمارا اسرائیلی فوج کے ساتھ کوئی رابطہ نہ بھی ہوتا تو کسی جمہوری ملک اور کوئی بھی فوج سویلینز اور عام انسانوں کو نشانہ نہیں بناتی۔ '

واضح رہے اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے 'ورلڈ سینٹرل کچن ' کے سات امدادی کارکنوں کو ہلاک کیا جب وہ ایک سو ٹن امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیا غزہ میں اتار چکے تھے۔ اس پر اسرائیلی فوج کے سربراہ نے معذرت کی ہے اور اسے بہت سنگین غلطی قرار دیا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسے غیر ارادی واقعہ قرار دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں 'ورلڈ سینٹرل کچن ' کے سربراہ نے کہا انہیں اپنی ٹیم کے ساتھ غزہ میں ہونا چاہیے مگر بعض وجوہ کی بنیاد پر وہ دوبارہ واپس غزہ نہیں جا سکتے ہیں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں