اسرائیل نے ایریز کراسنگ کے ذریعے غزہ تک ’عبوری‘امداد کی ترسیل کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اسرائیل نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ قحط کے خطرے سے دوچار شمالی غزہ میں "عبوری" امداد کی ترسیل کی اجازت دے گا۔ یہ اعلان اس وارننگ کے چند ہی گھنٹوں بعد سامنے آیا جو امریکہ نے حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے بارے میں اپنی پالیسی میں تیزی سے تبدیلی کے لیے دی تھی۔

کشیدگی کے ماحول میں جمعرات کو 30 منٹ پر محیط ایک فون کال میں امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بتایا کہ اسرائیل کے بارے میں امریکہ کی پالیسی غزہ میں شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ پر منحصر تھی۔ یہ واشنگٹن کی طرف سے اسرائیل کی فوجی مدد کے لیے ممکنہ شرائط رکھنے کی طرف پہلا اشارہ ہے۔

چند ہی گھنٹے بعد یروشلم میں نصف شب کو اسرائیل نے اعلان کر دیا وہ ساحلی فلسطینی علاقے میں مزید امدادی راستے کھولے گا جن کو اس نے تقریباً چھ ماہ قبل جنگ کے آغاز میں محاصرے میں لے لیا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے کہا، اشدود بندرگاہ اور ایریز زمینی گذرگاہ کے ذریعے "اسرائیل انسانی امداد کی عارضی ترسیل کی اجازت دے گا" نیز کرم شالوم گذرگاہ پر ہمسایہ اردن سے ترسیل میں اضافہ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ان اقدامات کا یہ کہہ کر خیرمقدم کیا کہ وہ "صدر کی درخواست پر" کیے گئے اور کہا انہیں "اب مکمل طور پر اور تیزی سے نافذ ہونا چاہئے۔"

اسرائیل حماس کے خلاف چھ ماہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ میں آیا ہے اور اسے اہم حمایتی واشنگٹن کی طرف سے تیزی سے سخت سرزنش کی گئی ہے۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی انتقامی مہم میں کم از کم 33,037 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے علاقے میں "تباہ کن" بھوک سے خبردار کیا ہے۔

'ناقابلِ قبول'

خیراتی ادارے آکسفیم کے مطابق جنوری کے بعد سے شمالی غزہ میں فلسطینیوں نے اوسطاً صرف 245 کیلوریز روزانہ کھائی ہیں جو پھلیوں کے ایک ڈبے سے بھی کم ہے۔

خیراتی اداروں نے اسرائیل پر امداد روکنے کا الزام لگایا ہے لیکن اسرائیل نے اپنی کوششوں کا دفاع کیا اور گروپوں کو کمی کا ذمہ دار قرار دیا کہ غزہ میں داخل ہونے کے بعد وہ امداد کی تقسیم میں ناکام رہے۔

قحط پیدا ہونے سے روکنے کی کوشش کرنے کا خطرناک کام اس ہفتے ایک اسرائیلی حملے سے نمایاں ہوا جس میں غزہ میں خوراک تقسیم کرنے والے سات انسانی امدادی کارکنان ہلاک ہو گئے۔

وائٹ ہاؤس کے طرف سے دونوں رہنماؤں کی کال پر بات کے خلاصے کے مطابق بائیڈن نے نیتن یاہو کو بتایا، "انسانی ہمدردی کے کارکنان پر حملے اور مجموعی انسانی صورتِ حال ناقابلِ قبول ہے۔"

بائیڈن نے یہ بھی "واضح کیا کہ غزہ کے حوالے سے امریکی پالیسی کا تعین ہمارے جائزے کی بنا پر کیا جائے گا" کہ انسانی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے

"اسرائیل کی فوری کارروائی کیا ہو گی۔"

اسرائیل کے دیرینہ حامی بائیڈن کو انتخابی سال میں غزہ جنگ کے حوالے سے ان کے ردِعمل پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے اور اتحادیوں کی طرف سے ان پر دباؤ ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کو دی گئی اربوں ڈالر کی فوجی امداد کو مشروط کرے۔

امریکی اعلیٰ سفارت کار انٹونی بلنکن نے رہنماؤں کی فون کال کے بعد صحافیوں کو بتایا، "اگر ہمیں وہ تبدیلیاں نظر نہیں آتی ہیں جن کی ضرورت ہے تو ہماری اپنی پالیسی میں تبدیلیاں ہوں گی۔"

بلنکن نے مزید کہا کہ ایک جمہوریت کے طور پر "اسرائیل حماس کی طرح نہیں ہے،" اور جمہوریتیں ہر انسانی زندگی کو "سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں"۔

بلنکن نے کہا، "اگر ہم انسانی زندگی کے لیے اس احترام کو کھو دیں تو ہمیں انہی لوگوں جیسا بن جانے کا خطرہ ہے جن کا ہم سامنا کرتے ہیں۔"

'رفح منصوبے پر 'تشویش'

نیتن یاہو نے حماس کو بشمول غزہ کے جنوبی شہر رفح میں بھی تباہ کرنے کا عزم کیا ہے باوجود یہ کہ ایسی کارروائی غزہ میں ایک انسانی تباہی کو مزید بگاڑ دے گی۔

پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن نے کہا ورلڈ سینٹرل کچن کے عملے پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے نے "رفح میں ممکنہ اسرائیلی فوجی کارروائی پر اظہارِ تشویش کو مزید تقویت دی تھی، بالخصوص فلسطینی شہریوں کے انخلاء اور انسانی امداد کی روانی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی۔"

اسرائیلی فوج کے مطابق اپنے اسرائیلی ہم منصب کے ساتھ ایک کال کے دوران آسٹن نے "ایران سے لاحق خطرے اور اس کی پراکسی سرگرمیوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔"

ایران نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر پیر کے روز ہونے والے فضائی حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا جس میں سات ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ہلاک ہو گئے جن میں سے دو جنرل تھے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ اقدام شام اور لبنان میں ایرانی اور ایران نواز کمانڈروں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا ایک حصہ ہے جو ان کے مطابق وسیع جنگ کی طرف لے جا سکتی ہیں۔

ایران کے اعلیٰ ترین رہنما علی خامنہ ای نے عبرانی زبان میں ایک سوشل میڈیا پیغام میں اس عزم کا اظہار کیا کہ "خدا کی مدد سے ہم صیہونیوں کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر جارحیت کے جرم پر شرمندہ کروائیں گے۔"

اسرائیلی فوج نے کہا کہ "صورتِ حال کے جائزے کے بعد افرادی قوت بڑھانے اور فوجی ارکانِ مخصوصہ کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔"

نیتن یاہو کو غزہ میں تاحال قید اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کی طرف سے شدید اندرونی دباؤ اور حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دوبارہ ابھر آنے کا سامنا ہے۔

جنگی کابینہ کے رکن بینی گینٹز جو نیتن یاہو کے ایک مرکزی سیاسی حریف ہیں، نے ستمبر میں فوری انتخابات کا مطالبہ کیا ہے جسے وزیرِ اعظم کی دائیں بازو کی لیکود پارٹی نے مسترد کر دیا ہے۔

'کوئی اصول نہیں'

عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں منگل کو کہا گیا کہ اسرائیل کی بے دریغ بمباری نے غزہ کا زیادہ تر حصہ ملبے میں تبدیل اور ہسپتالوں کا نظام تباہ کر دیا ہے اور ایک انسانی بحران پیدا کیا ہے جس میں تمام 2.4 ملین فلسطینیوں کو "خوراک کے شدید عدم تحفظ اور غذائی قلت کا سامنا ہے"۔

فلسطینی انجمنِ ہلالِ احمر نے جمعرات کو کہا کہ غزہ کے 31 بچے بھوک اور پانی کی کمی کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

بڑے بین الاقوامی امدادی گروپوں بشمول آکسفیم اور سیو دی چلڈرن نے کہا، اسرائیل کی جانب سے ورلڈ سینٹرل کچن کے عملے کی ہلاکت کے بعد اشد ضرورت کے باوجود غزہ میں امدادی کام تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

ہسپانوی این جی او اوپن آرمز جو ورلڈ سینٹرل کچن کے ساتھ مل کر سمندری امدادی راہداری کے قیام کے لیے کام کر رہی تھی، نے حملے کے بعد اپنی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے خیراتی ادارے کے سربراہ کرسٹوفر لاکیئر نے کہا، "حملوں کا یہ انداز یا تو دانستہ ہے یا لاپرواہ نااہلی کا اظہار ہے،" اور انہوں نے اسے "بغیر کسی اصول کے لڑی جانے والی جنگ" قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ تنازعہ میں ہلاک شدہ تقریباً 200 انسانی ہمدردی کے کارکنان میں سے پانچ ایم ایس ایف کے عملے سے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل جمعے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے کارکنان کی حفاظت اور غزہ پر منڈلاتے قحط پر بحث کرنے والی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں