امدادی کارکنوں کو ڈرون حملوں میں ہلاک کیا، وجہ حماس کا ایک مشتبہ جنگجو بنا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سات امدادی کارکنوں کی فوجی بمباری سے ہلاکت کے بارے میں اسرائیلی فوج کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ جمعہ کے روز جاری کی گئی اس رپورٹ میں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ حماس کے ایک مشتبہ بندوق بردار کو نشانہ بنانے کی وجہ سے پیش آیا اور وہ امدادی کارکن نشانہ بن گئے جو اپنی گاڑی کی طرف لپک رہے تھے کہ جان بچا سکیں۔

واضح رہے سات مختلف قومی شناختوں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنوں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اس طرح بیمانہ انداز میں ہلاکت پر دنیا بھر میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کو کئی ملکوں میں سفارتی اور عوامی دونوں سطحوں پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم امریکہ نے رسمی اظہار افسوس تک خود کو محدود رکھتے ہوئے اس واقعے کے بعد بھی اسرائیلی جنگ میں اسرائیل کی امداد جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

تاہم اسرائیلی فوج نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس کی طرف سے اس نوعیت کی 'غلطیوں کا ایک سلسلہ' موجود ہے اور یہ خود اس کی اپنی جنگی صلاحیت پر سوالات کا ذریعہ اوربین الاقوامی جنگی قوانین کے بھی واضح طور پر منافی ہے۔ اگرچہ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس میں غلطی کا پہلو کم سے کم اور اسرائیلی فوج کے وحشیانہ پن کا دخل زیادہ ہے۔ لیکن اگر یہ بات غلطیوں کے حوالے سے اسرائیلی فوج تسلیم کرتی ہے تو اس کو کل کلاں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جو ملک یا جس ملک کی فوج 'ریزروز' کی بنیاد پر اور نواجوانوں کی لازمی فوجی بھرتی کی بنیاد کی بنیاد پر لڑی جانے کا انحصار ہو گا اس میں بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصول ضابطے یا انسانی اقدار کی توقع مشکل ہو گی۔

اس تناظر میں اسرائیلی 'ریزروز' اور لازمی فوجی بھرتی کے گھن چکر میں پھنس کر لڑنے والوں میں جہاں اپنے اندر بوکھلاہٹ کا احساس ہوتا ہے۔ وہیں انہیں جبگ کے میدان میں فوجی قانون ضابطے سے زیادہ اپنے اہل خاندان اور اہل محلہ کی خوشیوں اور خواہشات کے مطابق لڑنا ہوتا ہے تاکہ وہ ' ہیرو' بن کر واپس عوام میں جائیں۔ جس کی وجہ سے اس طرح کے واقعات میں بے گناہوں کو مارنا ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا اظہار فوجیوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں سے بھی ہوتا ہے۔

پیر کے روز مارے گئے سات امدادی کارکن امریکی ادارے 'ورلڈ سینٹرل کچن' کے ساتھ وابستہ تھے اور ان کا تعلق شمالی امریکہ، برطانیہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور فلسطین وغیرہ سے تھا۔ اسرائیل فوجیوں کے مطابق یہ سات امدادی کارکن چار منٹ کے دوران تین ڈرون حملوں میں ہلاک کیے گئے ہیں۔ انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی تین گاڑیوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ گویا ڈرون طیاروں کو بروئے کار لانے والا فوجی کمانڈ پہلے ڈرون حملے سے تیعرے ڈرون حملے دوران اپنی غلطی کو محسوس نہ کر سکا اور ڈرون چلاتا رہا۔

اسرائیلی فوج کی رپورٹ میں اپنی پیشہ ورانہ اہلیت پر اٹھنے والے سوالات کی پروا نہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے' یہ واقعہ ایک مشتبہ فرد کو نشانہ بناتے ہوئے پیش آیا ، وہ مشتبہ شخص حماس کا بندوق بردار تھا۔ ' مگر اسرائیلی فوج کے رپورٹ مرتب کرنے والوں نے اس امر کو نظر انداز کر دیا ہے کہ ایک مشتبہ کو قتل کرنے کے لیےسات بے گناہوں کو ڈرون تین ڈرون حملوں میں ہلاک کر دینا ' کولیٹرل ڈیمیج ' کے کھاتے میں عالمی برادری کیسے قبول کرے گی۔

تاہم رپورٹ کے مطابق 'حماس کا ایک مشتبہ بندوق بردار 'ورلڈ سینٹرل کچن' کے قافلے میں شامل ہو رہا تھا۔ اس بارے میں سینئیر اسرائیلی فوجی افسروں نے بعض صحافیوں کو فوٹیج بھی دکھا جس میں ایک شخص کو حماس کا جنگجو قرار دیا گیا ہے۔ لیکن دوسری جانب تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے امدای کارکنوں کی گاڑیوں کی شناخت نہ ہو سی اور نہ ہی ان کی چھت پر موٹے حروف لکھا 'ورلڈ سینٹرل کچن' پڑھا جا سکا۔' رپورٹ میں ایک مشتبہ جنگجو کے بارے میں واضح نہیں کہ آیا وہ بھی نشانہ بن سکا یا نہیں۔

دوسری جانب ورلڈ سینٹرل کچن کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیم دو بکتر بند گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ اس علاقے میں کام کر رہی تھی جو جنگ سے محفوط سمجھا جاتا ہے۔ نیز 'ورلڈ سینٹرل کچن' تو کام ہی اسرائیلی فوج کے ساتھ ملکر کر رہا تھا کہ یہ امریکی ادارہ ہونے کے ناطے اسے بہت ساری سہولت اور تعاون کا ماحول فراہم ہو سکتا تھا۔

'ورلڈ سینٹرل کچن ' کے مطابق اس نے رات کے وقت کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ اس وقت بھوک زدہ فلسطینی ہجوم اس کی طرف نہیں ائیں گے اور یہ سب کام محفوظ انداز میں ممکن ہو سکے گا، کہ امدادی سامان گودام میں اتار لیں گے۔ جیسا کہ ہو بھی گیا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ڈرون کنٹرول یونٹ نے ڈرون حملے شروع کر دیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں