غزہ تباہ و برباد ہوچکا،حماس اور ایران کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں: اسامہ العلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی قومی کونسل کے رکن اسامہ العلی نے کہا ہے کہ غزہ ختم ہو گیا ہے۔ انہون نے استفسار کیا کہ کیا غزہ کی پٹی میں حماس یا ایران کی تعریف کرنے والا کوئی ہے؟ القسام بچوں کے درمیان چھپ رہا ہے"۔

العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ "کیا غزہ میں کوئی ایسی چیز باقی ہے جس کا دفاع کیا جا سکے؟ ہمیں کس چیز کا دفاع کرنا چاہیے؟ زمین، عمارتیں، بچے اور قحط، غزہ تو تباہ وبرباد ہوچکا ہے"۔

اسامہ العلی نے فتح کا جشن منانے والے نوجوانوں سے پوچھا کہ "کیا تم قحط کا مطلب جانتے ہو؟ کیا کوئی ہے جو حماس کی تعریف کرے؟ کیا کوئی ہے جو اسلامی جہاد یا ایران کی تعریف کرے؟‘‘۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حماس کے ارکان عمارتوں کے نیچے بنائی گئی سرنگوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ان سرنگوں تک پہنچنے کے لیے عمارتوں پر بمباری کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ القسام بریگیڈ بچوں کے ساتھ پناہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیل کو مغربی کنارے تک ہتھیار پہنچانے کے لیے ادائیگی کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران مسئلہ فلسطین میں مداخلت کر رہا ہے جبکہ وہ اسرائیلی حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔

فلسطینی قومی کونسل کے رکن نے کہا کہ حماس، ایران اور اسلامی جہاد نے اوسلو معاہدے کو تباہ کرنے کے لیے تل ابیب کا ساتھ دیا اور اسرائیل نے معاہدے پر عمل نہ کرنے پر یتزاک رابن کو قتل کر دیا۔

اپنے سابقہ بیانات میں اسامہ العلی نے زور دیا کہ حماس کو واضح طور پر ایران اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ حماس فلسطین کے اندر ایک ملیشیا ہے جو ریاست کی نمائندگی نہیں کرتی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس غزہ کی حکمرانی کو اس وقت تک نہیں چھوڑے گی جب تک اسے مجبور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "صرف غزہ کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ اس پر کون حکمرانی کرتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل دو سال یا اس سے زیادہ عرصے تک غزہ سے نہیں نکلے گا۔

اسامہ العلی نے انکشاف کیا کہ "ہم نے بار بار مفاہمت کی کوشش کی، لیکن حماس نے انکار کر دیا۔ ہم نے رضاکارانہ طور پر غزہ چھوڑ دیا تاکہ خانہ جنگی میں داخل نہ ہوں"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "اسرائیل کے ساتھ مذاکراتی عمل ناکام نہیں ہوا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں