فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے بچے جن کے سکول بھی تباہ ہوچکے ہیں،انہیں زخموں کامرہم ملنے میں لمبا عرصہ لگےگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

غزہ میں 80 فیصد سکول تباہ ہو چکے ہیں۔ جبکہ یونیسیف کے ماہرین 12 لاکھ بچوں کی زخمی اور تباہ شدہ نفسیاتی حالت کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں کہ لاکھوں بچوں کی نفسیاتی بحالی کیسے ممکن ہوگی۔ اس امر کا اظہار یونیسیف کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

نفسیاتی معالج آرڈری میگ ہان کا کہنا ہے کہ 'غزہ کے ان بچوں کو دوبارہ تعلیم کے حصول کے لیے صحت مند ہونے کے لیے محفوظ جگہ کی ضرورت ہوگی۔ غزہ میں اس وقت زیادہ تر بچوں کا دماغ صدمے کی حالت کے زیر اثر ہے۔' آرڈری میگ ڈاکٹرز ویداؤٹ بارڈرز سے وابستہ ہیں اور بچوں کی نفسیاتی بحالی کی زمہ داری انجام دیتی ہیں۔

ڈاکٹر آرڈری میگ ہان کا کہنا ہے 'کم عمر بچوں کے لیے معاملہ زیادہ سنگین ہے کہ خوراک کی جس قلت کا وہ اس وقت سامنا کر رہے ہیں۔ وہ زندگی بھر کے لیے حصول علم کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ جبکہ لڑکپن میں موجود بچے اس ٹرامے اور محرومی کے بدترین وقت میں ناانصافی کے رد عمل کا شکار ہو سکتے ہیں۔'

'سیو دی چلڈرن' کے ڈاکٹر ڈیوڈ سکنر کے مطابق 'سکولوں کی تعمیر کا اس وسیع پیمانے پر ممکن ہونا ایک بڑا اور سنگین چیلنج بھی ہوگا۔ لیکن یہ تعلیم کے نقصان کے مقابلے میں قدرے آسان کام ہے۔'

غزہ کی تعلیمی ضروریات کے حوالے سے جو چیز اکثر موجود نہیں پائی جاتی وہ غزہ میں تباہی کی زد میں ماحول ہے۔ ڈاکٹر سکنر نے کہا 'یہ وہ بچے ہیں جو انتہائی صدمے میں ہیں اور جنہوں نے اپنے بہت ہی عزیزوں ، پیاروں اور جاننے والوں کو کھو دیا ہے۔ حتیٰ کہ ان سے ان کے گھر اور محلے بھی کھو چکے ہیں۔ یہ بیمار ہیں اور خوراک سے محروم ہیں۔'

ڈاکٹر سکنر کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'وہ بچے جو ابھی بہت چھوٹی عمر میں ہیں، ان کی دماغ کی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ یہ دماغ کی صحت اور تعلیم کے نقصان کے دہرے خطرے سے دوچار ہیں۔'

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا اندازہ ہے کہ غزہ میں کم از کم 620000 پہلے سکولوں سے باہر تھے۔ جبکہ اب یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔

ڈاکٹر سکنر کے مطابق 'سکولوں کی تعمیر نو اور ان بچوں کو واپس سکولوں میں لانا ، پہلا چیلنج ہے۔ جبکہ اس سے بڑا اور سنگین چیلنج ان بچوں کو دوبارہ سے سیکھنے کے عمل کے لیے تیار کرنا ہے۔ انہیں صدمے کی حالت سے نکالنا ہے اور ان کے اندر سے ردعمل کے اثرات کو نکالنا ہے۔ یہ سارے کے سارے چیلنج غیر معمولی ہیں۔ خصوصاً غزہ میں جہاں جنگ اب بھی جاری ہے اور آئے روز بمباری ہو رہی ہے۔'

یاد رہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہوئی تو غزہ کے سکولوں میں کلاسز بند کر دی گئیں اور بچوں کے سکول بمباری سے بےگھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیے گئے۔

فلسطین کی سرزمین پر نصف آبادی 18 سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔ غزہ جو پچھلے 20 برسوں کے دوران پانچ بار جنگ کا شکار بن چکا ہے۔ یونیسیف اور دیگر امدادی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 6 ماہ کی جنگ کے دوران اب تک 80 فیصد سکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ 67 فیصد مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔

'اونروا' کی جولیٹ توما نے کہا 'جس صورتحال کا اس وقت غزہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کو سامنا ہے، اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ ہمارے جو لوگ زیادہ عرصے سے یہاں کام کر رہے ہیں ان کا احساس یہ ہے کہ یہ حملہ صرف غزہ پر نہیں بلکہ براہ راست تعلیمی اداروں اور بچوں پر ہے۔' واضح 'اونروا' غزہ میں تین لاکھ فلسطینی بچوں کو تعلیم فراہم کرنے میں مدد دے رہی تھی۔

مجد حلوا غزہ شہر کا ایک جنگ متاثرہ بچہ ہے۔ اسے اپنے سکول کی تباہی کے لیے اسرائیلی بمباری کا زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ جنگ شروع ہونے کے صرف دو ہفتے بعد اسرائیلی فوج نے اسے، اس کے خاندان سمیت شمالی غزہ سے نکلنے کے لیے صرف 3 منٹ کا وقت دیا تھا۔ اس کے بعد ان کی بستی بمباری سے خاکستر کر دی گئی۔

16 سالہ حلوا نے کہا 'میں نے اپنی تمام کتابیں گھر میں ہی چھوڑ دیں کہ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد جب انہیں واپس آنے دیا جائے تو ان کا گھر اور کتابیں محفوظ اور سلامت ہوں۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ہمارا گھر اور سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔'

رفح شہر میں پناہ لینے والے لاکھوں فلسطینیوں کے لیے عارضی خیموں کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے عارضی سکول بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک سکول والے خیمے میں حبہ حلوا ابتدائی الفاظ پڑھنا سکھا رہی ہے۔ بچے خوش ہیں کہ انہیں واپس پڑھنے کا موقع مل گیا ہے۔ لیکن خیمے والے اس سکول میں نہ کتابیں ہیں ، نہ قلم ، نہ کاغذ۔

غزہ میں حماس کی وزارت تعلیم نے اس طرح کے 25 ہزار عارضی سکولوں کی منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ دنیا کے کسی بھی حصے سے ایک بالکل مختلف صورتحال ہے۔ جہاں بچے جنگوں کی وجہ سے کبھی سکول واپس نہیں جا سکتے۔

عراق میں چھ سال بعد ہی داعش کے خلاف جنگ ختم کر دی گئی۔ اس کے باوجود آج بھی لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ہزاروں سکول تباہ ہیں اور ورلڈ بنک کے مطابق عراق میں ہزاروں تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر ابھی باقی ہے۔

ماجد جس کے والدین اسے کینیڈا لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے اس کا کہنا ہے 'جو کچھ ہوا ، اس کی یادوں کو 100 سالوں میں بھی نہیں بھلایا جا سکتا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں