فلسطین اسرائیل تنازع

مصر: غزہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے کوئی نئی تجویز سامنے نہیں آئی : حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی تحریک حماس کے ایک سینئیر رہنما نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ مصر کی طرف سے غزہ جنگ کے خاتمے لیے دی گئی تجویز میں کوئی بھی نئی تجویز شامل نہیں کی گئی ہے یہ تجاویز پہلے سے چل رہی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ اور مصر کے مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ جنگ بندی کا عمل زندہ رہے اور چلتا رہے، حالانکہ دونوں جانتے ہیں کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان گہری خلیج موجود ہے۔

حماس رہنما نے کہا عیدالفطر سے قبل مذاکرات کے نئے دور کے انعقاد کا مطلب واضح ہے کہ رمضان مکمل کر لیا گیا۔ رمضان کے بعد اگلے ہفتے مذاکرات کار اور اسرائیلی چاہیں گے کہ جنگ بندی معاہدے کے لیے ایک نئی کوشش ہو جائے۔

حماس کی قیادت کو مصری اور قطری مذاکرات کاروں کی طرف سے جو پیش کش سامنے آئی ہے وہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے باوجود کہ فلسطینی گروپ کی طرف سے بہت لچک دکھائی گئی ہے۔ واضح رہے اس سے قبل حماس رہنما اسامہ حمدان نے ایک نیوز کانفرنس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بارے میں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ 'وہ اپنی جگہ پر اڑے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ حتی ٰ کہ نیتن یاہو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔'

دوسری جانب قطر اور مصر کی طرف سے جاری مذاکراتی کوششوں کو امریکی حمایت حاصل ہے۔ مگر یہ ابھی تک ناکام ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے مارچ کی چار تاریخ تک جنگ بندی اعلان ہوجانے کی نوید سنائی تھی، مگر اب تو اپریل کی چار تاریخ بھی گذر چکی ہے اور رمضان کا اختتام قریب آ رہا ہے۔

اسرائیل صرف عارضی جنگ بندی چاہتا ہے۔ تاکہ عارضی جنگ بندی میں یرغمالی رہا ہو جائیں اور وہ پھر سے غزہ کے لوگوں پر پہلے سے بھی زیادہ تباہی مسلط کر سکے۔ خیال رہے سات اکتوبر سے جاری غزہ جنگ کے دوران اب تک 33037 فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ جن میں بچوں اور خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ جبکہ 75668 فلسطینی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے جمعرات کے روز کہا گیا ہے کہ ' مذاکرات کاروں نے حماس کے لیے کچھ نئی تجاویز تیار کی ہیں، اسرائیل کو مذاکرات کاروں سے توقع ہے کہ وہ واضح اور بڑا اقدام کریں گے تاکہ بات آگے بڑھے۔' تاہم دفتر نے مزید کچھ کہنے سے گریز کیا اور نہ ہی پچھلے بیانات پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں