مکہ میں غیرمعمولی ثقافتی اہمیت کا حامل ضلع حرا معتمرین کی توجہات کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

رمضان المبارک میں مکہ معظمہ میں اللہ کی رضا اور رحمت کے حصول کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان مکہ اور مدینہ کے حرمین میں عبادات میں محو ہیں۔ ان میں سے اب تک دس لاکھ سے زائد عمرہ زائرین نے مکہ کے ثقافتی ضلع حرا میں بھی اہم تاریخی اور ثقافتی مقامات کی زیارت کی ہے۔

مکہ میں عمرہ زائرین کے لیے دلکشی اور دلچسپی کا اہم مرکز غار حرا ہے۔ جو نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی اولین وحی کی جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں وحی کے نزول سے پہلے تنہائی میں غور وفکر میں مشغول رہا کرتے تھے، گویا یہ وحی کے انتظار کی کیفیات ہوتی تھیں۔

پھر یہ نزول قرآن کی ایک اہم ترین اور اولین جگہ قرار پائی۔ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ آنے والے زائرین کے لیے اس غار حرا کی زیارت کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ حال میں غار حرا تک پہنچنے کے لیے ایک نئے راستے کی تعمیر کی گئی ہے۔ جس سے زائرین کو غار حرا کی زیارت کے لیے آسانی سے پہنچنے میں سہولت ملی ہے۔

اس لیے اب زائرین کی غار حرا تک آمد میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ انہیں یہاں پہنچ کر ایک خاص قسم کی روحانی تسکین کا احساس ہوتا ہے۔ یہ جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہات کا مرکز بلکہ مکہ میں ایک انتخاب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس جگہ کو اللہ نے نزول قرآن کی اولین جگہ کے طور پر پسند کیا اور یہاں اللہ کے مقرب ترین فرشتے جبرائیل امین کی آمد ہوئی۔

عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ آنے والے زائرین رمضان المبارک میں بطور خاص غار حرا کو دیکھنے کی جستجو کرتے ہیں۔ تاکہ تاریخ کے ایک اہم ترین گوشے کو براہ راست دیکھ سکیں اور ان کیفیات کو سمجھنے کی کوشش کریں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہاں وحی سے پہلے اور نزول وحی کے بعد میسر رہیں۔

غار حرا کا یہ علاقہ 67000 مربع میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس حرا ثقافتی ضلع کی دیکھ بھال ایک کنسورشیم کے ذمہ ہے۔ کنسورشیم میں شاہی کمیشن برائے مکہ و دیگر مودسات، امارات برائے مکہ ریجن، سعودی وزارت ثقافت، وزارت سیاحت، مکہ مینوسپلٹی اور اوقاف سے متعلق قائم جنرل اتھارٹی شامل ہیں۔

اس ضلع کی ترجیح میں اس خاص اہمیت کی حامل جگہ کے احترام اور تقدس کو بھی ترجیحی معاملے کے طور پر طے کیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کی انسانی اور دینی تاریخی اہمیت کے تسلیم کیے جانے کے ساتھ ساتھ علاقے کی قدرتی خوبصورتی اور ماحول کو بھی اسی حالات میں برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاکہ تاریخ اور ماحول کا تناظر صدیوں پرانے حقائق سے جڑا ہوا رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں