بائیکاٹ مہم، میکڈونلڈز کا اسرائیلی فرنچائز سے ریسٹورنٹس واپس خریدنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

میک ڈونلڈز کارپوریشن نے اسرائیل میں میکڈونلڈ کے 225 ریستورانوں کی مالک ایلونیل لمٹیڈ نامی سے دیے گئے فرنچائز واپس لینے کا فیصلہ ہے۔ یہ ریستوران غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ کے بعد میک ڈونلڈز کے بائیکاٹ کے مطالبات سے متاثر ہوئے ہیں۔

میک ڈونلڈز نے ایک بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ چند نکات سے مشروط ہے، جن کی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔

ایلونیل لمٹیڈ نے 30 سال سے زیادہ عرصے سے اسرائیل میں میکڈونلڈ کے ریستوراں چلائے ہیں اور حالیہ دنوں میں 5,000 سے زائد ملازمین کے ساتھ 225 فرنچائزڈ یونٹس کے مالک ہیں۔ ان ملازمین کو فروخت کے بعد برقرار رکھا جائے گا۔

فروری میں اپنی 2023 کی آمدنی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے میک ڈونلڈز نے کہا کہ اکتوبر میں اسرائیل پر حماس کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے نتائج نے کاروبار کو متأثر کیا ہے۔

میک ڈونلڈز کو بائیکاٹ کے مطالبات کا نشانہ بنایا گیا جب اسرائیل میں فرنچائزڈ ریستوراں نے ہزاروں اسرائیلی فوجیوں کو مفت کھانے کی پیشکش کی۔

چیف ایگزیکٹیو کرس کیمپزنسکی نے ایک تجزیہ کار کال میں کہا، "ہم تسلیم کرتے ہیں کہ خطے میں ان کی برادریوں میں خاندانوں پر المناک طور پر جنگ کا اثر ہوا ہے اور ہماری ہمدردیاں اس وقت ان کے ساتھ ہیں۔"

انہوں نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ بائیکاٹ کا اثر "بامعنی" تھا۔

میکڈونلڈ کی چوتھی سہ ماہی کی فروخت نے تجزیہ کاروں کو مایوس کیا۔ ریاست ہائے متحدہ سے باہر فرنچائزڈ ریستوراں میں فروخت گذشتہ سہ ماہی کی نسبت 0.7 فیصد گر گئی۔

کیمپزنسکی نے کہا، "ظاہر ہے کہ جس جگہ ہم واضح ترین اثر دیکھ رہے ہیں وہ شرقِ اوسط میں ہے۔ ہم دیگر مسلم ممالک جیسے ملائیشیا، انڈونیشیا میں کچھ اثر دیکھ رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، فرانس جیسے بڑی مسلم آبادی والے ممالک میں بھی ایسا ہوا، بالخصوص مسلم اکثریتی محلوں میں۔

جمعرات کو مارکیٹ کے اوقات کے بعد کی تجارت میں میکڈونلڈ کے حصص تقریباً دو فیصد کم تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں