ھنیہ کے دورہ تہران کے بعد عرب ملکوں میں مظاہروں کی اپیل کی گئی: رہنما تحریک فتح

حماس اور اسلامی جہاد کا مطالبہ ہے کہ اردن کے مظاہروں کو باقی عرب ممالک تک بڑھایا جائے: العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تحریک فتح کے ایک عہدیدار نے العربیہ اور الحدث چینلز سے گفتگو میں بتایا ہے کہ حماس رہنما اسماعیل ھنیہ کے دورہ تہران کے بعد حماس کی طرف سے عرب ملکوں میں مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے۔ حماس کی تحریک نے جمعرات کو عرب عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کل جمعہ کو اپنی سرزمین پر سفارتی مشنوں کے سامنے اپنی تحریک کو تیز کریں۔ اسی طرح تحریک اسلامی جہاد کے ترجمان نے اردن کے مظاہروں کو مصر اور مغرب کے ملکوں تک پھیلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے بدھ کو عرب عوام اور دنیا بھر کے لوگوں سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ سڑکوں پر سرگرمیاں تیز کریں اور حکومتوں پر فلسطینی کاز کا ساتھ دینے کے لیے دباؤ بڑھائیں۔

اردنی سینیٹ کے سربراہ فیصل الفایز نے کہا ہے کہ اردن فلسطین کا قریب ترین ملک ہے اور ہمیشہ فلسطینی کاز اور فلسطینی عوام کے حقوق کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ الفایز نے العربیہ چینل کو دیے گئے پریس بیانات میں کہا کہ اردن اور ان کی ہاشمی قیادت 1936 میں فلسطینی انقلاب کے آغاز کے بعد سے فلسطینی عوام اور ان کے کاز کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ اردنی قبائل نے اس انقلاب میں حصہ لیا ۔ عزت ماب شاہ عبداللہ اول اور مسلح افواج نے اردنی فوج، عرب فوج اور اردنی قبائل کے رضاکاروں کے ساتھ مل کر 1948 کی جنگ میں مغربی کنارے کے تحفظ کو کامیاب بنایا اور اسے صیہونیت کے چنگل سے بچایا۔

انہوں نے کہا کہ اردنیوں کو حماس کے رہنماؤں کے ایسے بیانات کی ضرورت نہیں جس میں وہ اردنیوں سے فلسطینی کاز کی حمایت میں متحرک ہونے اور سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 7 اکتوبر کو غزہ پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اردن میں غزہ کی حمایت کے عنوان سے مظاہرے جاری ہیں۔ تاہم اردن کی حکومت نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نعروں کے معمولی مقاصد ہیں اور مظاہروں کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اردنی پبلک سیکیورٹی: بقعہ کے علاقے میں متعدد فسادیوں کو گرفتار کرتے ہوئے
اردنی پبلک سیکیورٹی: بقعہ کے علاقے میں متعدد فسادیوں کو گرفتار کرتے ہوئے

اردن نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ وہ مظاہروں کو اپنے مقاصد سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مظاہرین نے اپنے ملک کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا ہے کیونکہ حکومت نے اس ہنگامہ خیز دور میں اردن کے استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

اردن نے حماس کی کوششوں کو ریاستی سلامتی کے خلاف اشتعال انگیزی کے طور پر بھی بیان کیا اور کہا اس کا مقصد توجہ کو ہٹانا ہے۔ اردن نے حماس کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مشورے فراہم کریں۔ انہوں نے اردن میں امن برقرار رکھنے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے ثابت قدم رہنے پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں