حماس کو یرغمالی رہا کرنے پر مجبور کیا جائے: جو بائیڈن کا مصر اور قطر کو خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز مصر اور قطر کے رہنماؤں کو ایک خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس پر دباؤ ڈال کر اسے یرغمالی رہا کرنے پر مجبور کریں۔

جو بائیڈن نے یہ خط اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ہونے والی اپنی بات چیت کے اگلے روز لکھا ہے۔

انہوں نے نیتن یاہو سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے کوششوں کو تیز کریں۔ واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے 6 ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ تاہم یہ جنگ ابھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیل رفح میں بھی اسی جنگ کا پھیلاؤ چاہتا ہے۔

امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا 'صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے لیے مشیر پیر کے روز اسرائیلی یرغمالیوں میں سے بعض کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے۔' خیال کیا جاتا ہے کہ 6 ماہ گزرنے کے بعد بھی تقریباً ایک سو یرغمالی اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق صدر جوبائیڈن کا مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے نام خط لکھنے کے ساتھ ساتھ امریکہ نے سی آئی اے کے سربراہ بل برنز کو قاہرہ میں بھیج رکھا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کریں۔

وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں ایک وقفے کے لیے کوشاں ہیں۔ تاکہ یرغمالیوں کی رہائی اور تبادلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے امور کے لیے ترجمان جان کربی نے اس سے قبل جمعہ کے روز کہا تھا کہ جو بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان جمعرات کو فون پر ہونے والی بات چیت میں یرغمالیوں کی رہائی پر کافی بات چیت کی گئی تھی۔ نیز جو بائیڈن نے اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والے 7 امدادی کارکنوں کے افسوس ناک واقعے پر بھی گفتگو کی تھی۔

جان کربی کے مطابق یرغمالیوں کو حماس کی قید میں چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب انہیں رہا کر دیا جائے اور وہ اپنے گھروں کو چلے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں