غزہ میں اسرائیلی جنگ کے چھ ماہ مکمل، قاہرہ میں مذاکرات کی نئی بیٹھک کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

غزہ میں اسرائیلی جنگ کا نصف سال مکمل ہونے سے پہلے توقع تھی کہ جنگ بندی کی کوئی صورت نکل آئے گی اور رمضان میں اسرائیلی بمباری اور دوسری جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ رک سکے گا۔ مگر رمضان گزرنے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا ۔ اب اطلاع سامنے آئی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی مذاکرات کار ہفتے کے اواخر میں ایک بار پھر قاہرہ میں جمع ہوں گے۔ تاکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے از سر نو بات چیت شروع ہو سکے۔

یہ اطلاع ان حالات میں سامنے آئی ہے کہ جب صدر جوبائیڈن کی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ فون پر بات کی اور انہوں نے اپنے اسرائیلی اتحادی سے کہا ہے کہ وہ اپنے مذاکرات کاروں کو بااختیار بنا کر مذاکرات میں بھیجیں۔ دوسری جانب صدر جوبائیڈن نے مصری صدر اور قطری امیر کو ایک خط لکھا ہے کہ وہ حماس پر دباؤ ڈال کر یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی ممکن بنائیں۔ گویا امریکہ دونوں طرف سے اس کوشش میں ہے کہ دباؤ کا استعمال کر کے یرغمالیوں کی رہائی کے چھ ماہ سے لٹکے ہوئے معاملے کو اب جلد طے کیا جائے۔

یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ماہ نومبر کے آخری ہفتے کے دوران کئی چھوٹے وقفوں کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ مگر یکم دسمبر کے بعد جنگ بندی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

اب وائٹ ہاؤس نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ اسی ہفتے کے اختتام تک مصری دارالحکومت قاہرہ میں مذاکرات کار پھر سے جمع ہوں گے اور مذاکراتی عمل پھر سے شروع ہو گا۔ مذاکرات کے اس نئے دور میں امریکی سی آئی اے چیف بل برنز اور اسرائیلی موساد کے چیف ڈیوڈ بارنیا کے علاوہ قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی اور مصر کی طرف سے مصری انٹیلیجنس چیف عباس کامل شرکت کریں گے۔

اسرائیل اور حماس دونوں ایک دوسرے پر پچھلے مذاکراتی عمل کی ناکامی کی ذمہ داری عاید کرتے ہیں۔ جبکہ امریکی جوبائیڈن انتظامیہ کے سینئیر عہدے دار کے مطابق اگر حماس یرغمالیوں میں سے کمزوروں اور بیماروں کو رہا کرنے پر آماد ہو جائے تو آج ہی جنگ بندی بھی ممکن ہو جائے گی۔

حماس محض یرغمالیوں کی رہائی کر کے جنگ بندی کی توقع کرنے کو خام خیالی قرار دیتی ہے۔ کہ اس طرح یرغمالیوں کو رہا کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کو بعدازاں کھلی چھٹی دے دی جائے کہ جہاں چاہے، جس طرح چاہے تباہی مچائے۔ اس لیے حماس اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلاء اور امدادی سامان کی کھلی ترسیل کے علاوہ غزہ کےئ مکینوں کی اپنے گھروںآ ور علاقوں میں محفوظ واپسی کی شرائط رکھتی ہے۔ یہ چیزیں اسرائیل قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کے صدر جوبائیڈن پچھلے کئی دنوں سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جنگ بندی کے ایشوز پر جوبائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کے ساتھ ناراضگی پیدا ہو رہی ہے۔ لیکن اگر اس ناراضگی کے حاصل کو دیکھا جائے تو اسرائیل کے لیے ایسا کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ جس سے حماس کے بارے میں اسرائیلی مقاصد پر منفی اثر آئے۔ تاہم 7 امدادی کارکنوں کی اسرائیلی ڈرن حملوں میں پیر کے روز ہلاکت نے جوبائیڈن کو مجبور یا ہے کہ وہ اسرائیل کے ستاھ ناراضگی کے تاثر کو مزید گہرا کرے۔

جمعہ کے روز امریکی قانون سازوں کے دستخط شدہ خط میں صدر جوبائیڈن پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ فراہمی کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ نیز 7 امدادی کارکنوں کی اسرائیلی بمباری میں ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک جارحانہ ہتھیاروں کی اسرائیل کو فراہمی روک دیں۔ قانون دانوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اسرائیل کو آئندہ بھی کبھی جارحانہ جنگی ہتھیار فراہم نہ کیے جائیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق 'ورلڈ سینٹرل کچن' کے 7 امدادی کارکنوں کی اسرائیلی ڈرون حملوں میں ہلاکت کی ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں دو افسران کو برطرف کیا جا رہا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے جاری جنگ میں 33091 فلسطینی قتل ہوئے ہیں۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں قتل ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

اسرائیلی تحقیقات کے بارے میں آسٹریلیا نے کہا ہے کہ 'یہ کافی نہیں'۔ 'ورلڈ سینٹرل کچن' کے مطابق اسرائیل غزہ میں معتبر تحقیقات نہیں کر سکتا۔ کہ اسرائل نے امدادی کارکنوں پر اس کے باوجود ڈرون حملے کیے کہ اسرائیلی فوج امدادی کارکنوں کی نقل و حمل کے بارے میں جانتی تھی۔'

پیر کے روز ہونے والی امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے بعد سے غزہ کے بھوک و قحط سے دوچار فلسطینیوں کے لیے 'ورلڈ سینٹرل کچن' کی امدادی کارروائیاں معطل ہیں۔ عالمی امدادی تنطیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا ناممکن ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل کی بریفنگ کے موقع پر کہا 'غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اپنی رفتار ، وسیع پیمانے پر ہونے اور درندگی کے طریقے پر ہونے کے سبب دنیا کے مہلک ترین تنازعات میں سے ہے۔ 7 اکتوبر سے جاری جنگ نہ صرف غزہ کے فلسطینیوں کے لیے مہلک ہے بلکہ امدادی کارکنوں، صحافیوں، ڈاکٹروں حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے کارکنوں کے لیے بھی اسی طرح خطرناک ہے۔

پیر کے روز پاسداران انقلاب کے 7 ارکان جن میں دو سینیئر کمانڈر بھی شامل تھے اسرائیلی فضائی حملے میں دمشق میں ہلاک کر دیے گئے۔ اسرائیل نے یہ حملہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دو سینیئر کمانڈروں سمیت سات ارکان کی ہلاکت کا جواب ضرور لیا جائے گا۔ اسرائیلی حملے کے بعد ایرانی ردعمل کے لیے خطے کو ضرور تیار رہنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں