سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت، اسرائیل کو اسلحہ فروخت نہ کرنے پر یورپی ممالک میں غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا سمیت کئی یورپی ملکوں میں امریکی 'ورلڈ سینٹرل کچن' نامی ادارے کی 7 رکنی ٹیم کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ جو کام ہزاروں فلسطینی عورتوں اور بچوں کی لاشیں نہیں کر سکی تھیں وہ صرف سات جانوں کی ہلاکت سے کیے جانے کا تاثر ملنے لگا ہے۔ اسرائیل کے اتحادی اور کٹر حامی کئی ملکوں نے اس واقعہ کے بعد اسرائیل کو مزید اسلحہ سپلائی نہ کرنے کا سوچنا شروع کر دیا ہے۔

انسانی جانوں کے بارے میں امریکہ اور یورپ میں اب عوامی سطح پر ظاہر کی جانے والی حساسیت 6 ماہ بعد واضح طور پر سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں میں بھی محسوس ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اسرائیلی اتحادیوں کی طرف سے اب یہ الفاظ استعمال کیے جانے لگے ہیں کہ 'حیرت ہے ، غم و غصہ اور مزید کوئی بہانہ نہیں۔' اس سے پہلے پورے 6 ماہ میں اتنا شدید ردعمل کبھی سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ ہلاکتوں کے واقعات بہت بہیمانہ انداز سے پیش آتے رہے اور یہ تعداد غیرمعمولی طور پر تیزی سے اوپر جاتی رہی۔

اس اکیلے واقعے نے یورپی سیاستدانوں کو براہ راست متاثر کیا ہے اور ان کی سات اکتوبر سے اسرائیل کے لیے جاری حمایت سکڑنے لگی ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے پیر کے روز ہونے والے اس واقعہ پر کہا 'اس المیے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔'

برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے اس واقعہ پر غیرمعمولی حیرت کا اظہار کیا۔ خیال رہے 'ورلڈ سنیٹرل کچن' کی 7 رکنی ٹیم میں 3 برطانوی شہری شامل تھے۔ برطانیہ نے اس واقعے پر اسرائیلی سفیر کو جواب طلبی کے لیے بھی طلب کیا ۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ سے لے کر وزیر اعظم اور صدر تک سبھی نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اخلاقی طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔

علاوہ ازیں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکی ادارے کی 7 رکنی ٹیم کی ہلاکتوں پر کہا 'یہ مکمل طور پر ناقابل قبول واقعہ ہے۔' جبکہ آسٹریلیا کے رہنما انتھینی البانیز نے کہا اس کا ملک سخت غصے میں ہے۔ اسرائیل یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ایک سنگین غلطی تھی۔ فوج کے دو افسروں سمیت پانچ لوگوں کو فارغ کر دیا گیا ہے۔

لندن کی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق ایک بڑی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر جولی نارمن نے کہا ہے ' پہلے ہی اس جنگ کے بارے میں یورپ میں بےچینی بڑھ رہی ہے جبکہ پیر کے روز کے اس حملے نے اس چیز کو اور بڑھاوا دیا ہے اور اب عوامی سطح پر اس کو محسوس کیا جانے لگا ہے۔ جو باتیں پہلے بہت آہستہ سے ہو رہی تھیں ، اب بہت بلند آواز میں ہونے لگی ہیں۔'

فرانس کے صدر عمانویل میکرون نے اس واقعہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 'جس طرح نومبر میں جنگ بندی ہوئی تھی اسی طرح جلد سے جلد جنگی وقفے ہونے چاہییں۔' رشی سونک اب انسانی بنیادوں پر جنگی وقفے سے آگے بڑھ کر پائیدار جنگ بندی کی بات کرنے لگے ہیں اور ساتھ ساتھ حماس سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور حملے روکنے کا ماطلبہ کرنے لگے ہیں۔

جرمنی اسرائیل کے قریب ترین اتحادیوں میں سے ایک ہے۔ وہ اسرائیل کے ہولوکاسٹ ایشو کو سمجھنے والا ملک ہے۔ تاہم اب جرمنی کی حکومت بھی غزہ میں انسانی صورتحال پر تنقید کرتی نظر آرہی ہے۔ جرمنی کے چانلر اولف شولز نے کہا ہے 'جنگی ہلاکتوں کی تعداد پریشان کن ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم سے ایک اجلاس میں پچھلے ماہ یہ بات کہی تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو حق دفاع کا کیسے جواز قرار دیا جا سکتا ہے۔ '

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جمعہ کے روز پاکستان کی طرف سے پیش کردہ ایک قرارداد کو اسرائیل کے خلاف منظور کیا ہے۔ یورپ کے 47 ملکوں میں سے صرف جرمنی نے قرارداد کی حمایت نہیں کی اور یورپ سے باہر امریکہ نے اس کی حمایت نہیں کی۔ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو ساچیز نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ 'ہم نے اسرائیل کو اسلحہ بھیجنا بند کر دیا ہے۔ دوسرے ملک بھی ایسا کریں۔'

ماہ فروری میں کینیڈا نے اعلان کیا تھا کہ کینیڈا مزید سامان اسرائیل بھیجنا روک دے گا۔ ہالینڈ کی عدالت نے بھی یہی فیصلہ دیا تھا کہ اسرائیل کو ایف 35 طیاروں کے اضافی پرزہ جات کی سپلائی روک دی جائے۔ اگرچہ ہالینڈ کی حکومت نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ برطانوی سپریم کورٹ کے 3 سابق جج حضرات سمیت 600 قانون دانوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں