فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی حملے میں ہلاک حماس رہ نما اکرم سلامہ کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے ’شین بیت‘ نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ بدھ کو جنوبی غزہ کی پٹی پر ایک فضائی حملے کے نتیجے میں حماس کے داخلی سلامتی کے ایک سینیر رہ نما کی اکرم سلامہ کی ہلاکت ہوئی تھی۔

اسرائیلی فوج اور شین بیت جنرل سکیورٹی سروس کے ترجمان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے اکرم عبدالرحمٰن حسین سلامہ کو انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد فضائی حملے میں ہلاک کیا۔ انہیں حماس تحریک کے داخلی سلامتی کے ایک اہم رہ نما" قرار دیا تھا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سلامہ حماس کے کئی اہم عہدوں پر فائز تھے جن میں خان یونس کے علاقے کے سربراہ بھی شامل تھے اور وہ اسرائیل میں حملوں کی منصوبہ بندی کے ذمہ دار تھے۔

اکرم سلامہ کون ہیں؟

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے کہا کہ وہ حماس کے اندرونی ادارے میں ایک اہم اہلکار تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ تحریک میں کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے جن میں خان یونس گورنری کے نائب سربراہ کا عہدہ بھی شامل ہے۔

اکاون سالہ اکرم سلامہ اسرائیلی جیلوں میں ایک سابق فلسطینی قیدی ہیں۔ انہیں 2011ء میں گیلاد شالیت معاہدے کے ایک حصے کے طور پر رہا کیا گیا تھا۔

اس نے اپنی زندگی کے 30 سالوں میں سے 22 سال اسرائیلی جیلوں میں گذارے۔

سلامہ کے پاس نرسنگ کی ڈگری ہے اور اسے "قیدیوں کا خادم" کہا جاتا ہے اور وہ رملا جیل میں قیدیوں کی صحت کی ذمہ دار تھے۔

وہ حماس تحریک کے مسلح ونگ کے رہنما، قیدی حسن سلامہ کے بھائی بھی ہیں جو 48 بار عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اسرائیل نے 2011 میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت اسے رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

حماس کے قریبی ذرائع ابلاغ نے اکرم سلامہ کے قتل کی تصدیق کی ہے، لیکن تحریک میں ان کے عہدے کی نشاندہی نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں