جنگ بندی مذاکرات میں حماس کی اپنے رہ نماؤں کا تعاقب نہ کرنے کی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے خاتمے کی امید میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے ابھی تک بات چیت جاری ہے۔

مزاحمتی رہ نماؤں کا تعاقب بند کیا جائے

العربیہ اور اس کے برادر ٹی وی چینل الحدث کے ذرائع نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ حماس نے قاہرہ کے مذاکرات میں تنظیم کے رہ نماؤں کا تعاقب یا نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرنے کی شرط رکھی ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ حماس نے اپنی پرانی شرائط کو دہراتےہوئے غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء اور بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ کی پٹی کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس نے مذاکرات کے دوران ایک طویل مدتی توسیعی جنگ بندی کی تجویز بھی پیش کی اور غزہ میں موجود حماس قیادت کی جلا وطنی کو مذاکرات میں شامل نہ کرنےکی تجویز پیش کی ہے۔

خیال رہے کہ شمالی غزہ کے لاکھوں بے گھر افراد کی ان کے گھروں کی واپسی کا معاملہ فریقین کے درمیان ایک اختلافی نقطہ ہے۔ حماس فلسطینیوں کی شمالی غزہ واپسی کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ اسرائیل اس پر تیار نہیں۔

اس سے پیشتر اسرائیلی حکام نے مصر اور امریکہ کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ روزانہ دو ہزار فلسطینیوں کی شمالی غزہ واپسی کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیل نے 18 سے 50 سال کی عمر کے مردوں کو چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ 60,000 فلسطینیوں کی واپسی کی شرط بھی رکھی تھی۔

اس تناظر میں عرب حکام نے وضاحت کی کہ غزہ کے بے گھر ہونے والوں کی واپسی جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے دس دن سے دو ہفتے بعد شروع ہو سکتی ہے۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو جنگ بندی چھ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

اسرائیلی اور مصری حکام کے مطابق "حماس کے جنگجوؤں کو دوبارہ شمالی غزہ میں دراندازی سے روکنے کے لیے واپس آنے والوں کو اسرائیلی فوجی چوکیوں سے گزرنا چاہیے"۔

حماس نے اسرائیلی تجاویزمسترد کردیں

دوسری طرف حماس ان شرائط کو مسترد کردیا ہے۔ حماس اسرائیلی چیک ہوسٹوں کو ہٹانے اور بالغ مردوں کوواپس آنے سے روکنے کو مسترد کردیا۔ حماس نے کہا کہ وہ شمالی غزہ میں واپس آنے والے خاندانوں کے دوبارہ اتحاد کو برقرار رکھنے پر اصرار کرتی رہے گی۔

کل ہفتہ کو حماس نے کہا تھا کہ اس کا ایک وفد خلیل الحیا کی سربراہی میں قاہرہ جائے گا تاکہ اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ جنگ بندی پر بات کی جا سکے۔

ساتھ ہی حماس نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے اپنی سابقہ پوزیشن پر قائم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں