ضرورت پڑنے پر ہم خان یونس میں دوبارہ داخل ہو سکتے ہیں: اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے شہر خان یونس میں حماس کے ایک سینیر رہ نما کی ہلاکت کے اعلان کے بعد ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو فوج دوبارہ خان یونس میں داخل ہوگی۔

اسرائیل کے عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے بتایا کہ فوج کی 98 بٹالین نے کئی ہفتوں تک خان یونس میں حماس کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جس کے بعد وہ واپس چلی گئی تھی۔

اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ’’اب ہم رفح، وسطی غزہ اور دیر البلح میں حماس کے بریگیڈز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں جن سے ابھی تک نمٹا نہیں گیا‘‘۔

ایک بٹالین

اسرائیلی فوجی ترجمان نے اتوار کو کہا کہ فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی سے تمام زمینی افواج کو واپس بلا لیا ہے۔ وہاں صرف ایک بٹالین فوج رہ گئی ہے جس میں چند ہزار فوجی اہلکار ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے ابھی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انخلاء سے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح میں دراندازی میں تاخیر ہوگی جہاں کارروائی کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو بار بار زور دے رہےہیں۔

غزہ کا مستقبل

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں مستقبل کی کارروائی صرف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہوں گی اور اس طرح سے فورسز کو تعینات کرانا درست نہیں ہو گا جس سے انہیں خطرہ لاحق ہو۔

اسرائیلی فوج کے مطابق خان یونس سے روانگی سے مغربی کنارے میں آپریٹنگ ماڈل کے حوالے سے مزید آپریشنل اور انٹیلی جنس کے مواقع ملیں گے۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے حملے کے بعد 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ اب اپنے ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 33,091 تک جا پہنچی ہے جن میں 13,000 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔75,750 فلسطینی شہری زخمی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں