ہزاروں اسرائیلیوں کا نیتن یاہو کے خلاف احتجاج، انتخابات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نصف سال پورا ہونے پر دسیوں ہزار اسرائیلیوں نے ہفتے کے روز وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف مظاہرہ کیا۔

منتظمین نے بتایا کہ گذشتہ سال متنازعہ عدالتی ترامیم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد سے تقریباً ایک لاکھ لوگ تل ابیب کے ایک چوراہے پر جمع ہوئے جس کا نام تبدیل کر کے "ڈیموکریسی اسکوائر" رکھا گیا ہے۔

مظاہرین نے "فوری انتخابات" کے نعرے لگائے اور نیتن یاہو کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرہ ایک ایسےوقت میں کیا گیاجب آج اتوار کو غزہ میں جنگ ساتویں مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔

دوسرے شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں، جن میں اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر لپید نے واشنگٹن میں مذاکرات کے لیے روانہ ہونے سے پہلے کفار سبا میں ایک ریلی میں شرکت کی۔

انہوں نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ "حکومت نےکچھ نہیں سیکھا، حکمران نہیں بدلے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جب تک ہم انہیں گھر نہیں بھیجیں گے وہ اس ملک کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیں گے"۔

لوگ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں اور غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکریت پسند گروپ کے ہاتھوں تل ابیب، اسرائیل، ہفتہ، 6 اپریل 2024 کو یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ (اے پی فوٹو/ایریل شالیٹ)

اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب کےجلوس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جب کہ پولیس نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایک احتجاجی کو گرفتار کر لیا ہے۔

تل ابیب میں مظاہرین کے ساتھ غزہ میں قیدیوں کے اہل خانہ اور ان کے حامی بھی شامل تھے۔

تل ابیب کے شمال میں واقع سیزریا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان اسس وقت جھڑپیں بھی ہوئیں جب مظاہرین نے نیتن یاہو کی نجی رہائش گاہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔

اتوار کو یروشلم سمیت کئی شہروں میں دیگر مظاہرے ہونے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں