اسرائیلی جیل میں 38 سال سے قید فلسطینی شہری کا کینسر سے انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

62 سالہ ولید دقہ کا انتقال تل ابیب کے نزدیک شاہ میر میڈیکل سینٹر میں اتوار کے روز ہوا۔ دسمبر 2022 میں قید کے دوران ہی ولید دقہ کو کینسر کے ایسے عارضے کی تشخیص کی گئی جو بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے۔ یہ ہڈیوں کے گودے کا کینسر تھا۔ جس کے ساتھ لڑتے لڑتے قید کے دوران ہی فلسطینی شہری کا انتقال ہو گیا۔

دقہ کو 1986 میں گرفتار کر رکے جیل میں بند کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ فلسطین کی آزادی کے لیے کام کرنے والے 'پاپولر فرنٹ' کے مسلح ونگ سے وابستہ تھے۔ اس مسلح ونگ پر الزام تھا کہ اس نے 1984 میں ایک اسرائیلی فوجی کو اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔

بعدازاں ولید دقہ کو اسرائیلی عدالت نے زندگی بھر کے لیے قید کی سزا سنا دی۔ جسے کم کر کے 37 سال کر دیے گئے۔ لیکن اس کے باوجود 2018 میں انہیں سمگلنگ کے ایک مقدمے میں اس الزام کے تحت مزید دو سال کے لیے جیل میں بند کر دیا گیا کہ انہوں نے موبائل فون سمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اپنی اس دوہری سزا کے باعث اب انہیں جیل سے رہائی مارچ 2025 میں ملنے کی امید تھی۔ تاہم وہ اسرائیلی قید میں ہی کینسر کے مرض سے لڑتے لڑتے انتقال کر گئے۔

فلسطیینی قیدیؤں کی بہبود کے لیے قائم 'فلسطینی پرزنرز کلب' نے ان کی رہائی کے لیے بہت کوشش کی مگر ان کو طبی سہولیات فراہم ہو سکیں نہ رہائی ممکن ہو سکی۔ یوں ان کا مرض آہستہ آہستہ زیادہ بگڑ گیا۔

'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے ہفتہ کے روز ان کی رہائی کے لیے ایک بار پھر اپیل کی تھی۔ جسے قبول نہیں کیا گیا۔ 7 اکتوبر 2023 سے کینسر کے مرض کے باوجود انہیں قید کے دوران مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جا تا رہا۔ ان کی توہین کی جاتی رہی اور ان کے خاندان کے افراد کو ملاقات سے انکار کیا جاتا رہا۔ حتیٰ کہ ان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے بھی ان کی درخواست رد کی جاتی رہی۔

بہت مشہور مگر زیر حراست فلسطینی رہنما مروان برغوثی لو بھی سنہ 2000 سے جیل میں بند رکھا گیا ہے۔ انہیں 20 سال جیل گزارنا پڑے ہیں۔ ان کے حامی امید کرتے ہیں کہ ان کو آئندہ دنوں میں یرغمالیوں کے بدلے میں رہائی نصیب ہو سکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں