اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد ، اسرائیل کو کون کون سا اسلحہ ملتا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں جاری تباہ کن اسرائیلی جنگ کا واشنگٹن سے تقاضا ہے کہ اسرائیل کو فراہم کی جانے والی اربوں ڈالر کی فوجی مدد کو امریکہ روک دے۔ نیز اسرائیل کو فراہم کی جانے والی دوسری امداد پر بھی قدغن عائد کرے۔

واضح رہے اسرائیل اور امریکہ نے 2016 میں دس سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ جس کے تحت یکم اکتوبر 2018 سے 30 ستمبر 2028 تک امریکہ اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی فوجی مدد فراہم کرے گا۔ جس میں سے 33 ارب ڈالر جارحانہ جنگی اسلحے اور ساز و سامان کی خریداری کے لیے ہوں گے جبکہ 5 ارب ڈالر میزائل ڈیفنس سسٹم کے لیے مختص کیے گئے تھے۔

اسرائیل کا جدید ہتھیاروں کا نظام

اسرائیل امریکی ساختہ ایف 35 'جوائنٹ سٹرائیک فائٹر کا پہلا بین الاقوامیآپریٹر ہے۔ جوائنٹ سٹرائیک فائٹر کو دنیا کا سب سے لڑاکا جیٹ طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل امریکہ سے ایف 35 جیٹ طیارے 75 کی تعداد میں خریدنے کے عمل سے گذر رہا ہے۔ ان میں سے 36 طیارے اسرائیل کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔

امریکہ نے اسرائیل کو 'آئرن ڈوم شارٹ رینج راکٹ دفاعی نظام تیار کرنے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔ یہ دفاعی نظام اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد 2006 میں تیار کیا گیا تھا۔ تاہم ساتر اکتوبر 2023 ی جن معلاوہ ازیں امریکہ نے انٹر سپیٹر میزائلوں کی فلنگ میں بھی اسرائیل کو مدد فراہم کی ہے۔ جس کی مد میں اسرائیل کو کروڑوں ڈالر بھیجے گئے۔

اسرائیل کے 'دیوڈ سلنگ سسٹم' کے لیے بھی امریکہ نے فنڈز فراہم کیے ہیں۔ اسرائیل کا یہ دفاعی نظام 100 کلومیٹر سے 200 کلومیٹر تک فائر کیے جانے والے میزائلوں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیل حماس جنگ میں اسرائیل کو مزید کچھ ملے گا؟

امریکی صدر جوبائیڈن نے گزشتہ سال اسرائیل کے لیے 95 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کی منظوری کے لیے کہا تھا۔ کانگریس کو پیش کیے گئے اس بل میں اسرائیل کے لیے 14 ارب ڈالر شامل کیے گئے تھے۔ علاوہ ازیں یوکرین کے لیے 60 ارب ڈالر اور تائیوان کے لیے امداد بھی شامل تھی۔

اس بل کو سینیٹ نے ماہ فروری میں 70 فیصد حمایت کے ساتھ منظور کیا گیا۔ جبکہ ایوان میں ری پبلکینز نمائندؤں نے اس بل کے منظوری کی مخالفت کی۔ ان کے مطابق یوکرین کو مزید فنڈنگ نہیں کی جانی چاہیے۔ ریپبلیکنز کے علاوہ ڈیموکریٹس کے نمائندگان کو اسرائیل کو فنڈنگ کرنے سے مسئلہ تھا۔ ان کی طرف سے بل پر اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتبور سے جاری جنگ مکے دوران 33 ہزار سے زائد فلسطینی شہری قتل ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباری سے قتل ہونے والے فلسطینیوں میں خواتین اور بچؤں کی تعداد زیادہ ہے۔

امریکہ اسرائیل کی حمایت کیسے کرتا ہے؟

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔ امریکہ کی یہ حمایت ویٹو کے حق کو استعمال کر کے کی جاتی ہے۔ غزہ میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قرادادوں کو امریکہ ویٹو کرتا رہا۔ ان قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فوری جنگ بندی کرے۔ نیز انسانی بنیادوں پر سامان کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں