بلنکن کی کال،امدادی کارکن کے والد کا اسرائیل کے بارے میں امریکہ کے سخت مؤقف پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جب امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار نے غزہ میں ورلڈ سینٹرل کچن کے امدادی قافلے پر اسرائیلی فضائی حملے میں جان فلکنگر کے بیٹے کی ہلاکت پر تعزیت کے لیے فون کیا تو انہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے۔

غمزدہ والد نے سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن سے کہا، حماس کے زیرِ انتظام علاقے میں اسرائیل کے ہاتھوں ہلاکتیں ختم ہونی چاہئیں اور یہ کہ اسے ممکن بنانے کے لیے امریکہ کو شرقِ اوسط کے قریبی اتحادی پر اپنی طاقت اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت کے حامل، جان فلکنگر کے 33 سالہ بیٹا جیکب فلکنگر انسانی حقوق کے ان سات کارکنان میں شامل تھے جو یکم اپریل کے ڈرون حملوں میں ہلاک ہو گئے۔

جان فلکنگر نے ہفتہ کو بلنکن کے ساتھ اپنی 30 منٹ کی گفتگو بیان کرتے ہوئے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، "اگر امریکہ نے اسرائیل کو امداد معطل کرنے کی دھمکی دی ہوتی تو شاید آج میرا بیٹا زندہ ہوتا۔"

فلکنگر نے کہا کہ بلنکن نے کسی نئی پالیسی کے اقدامات کا وعدہ نہیں کیا لیکن کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک سخت پیغام بھیجا ہے کہ اگر اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ میں شہریوں کی تقدیر کے بارے میں مزید محتاط رویہ اختیار نہ کیا تو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بدل سکتے ہیں۔

جان فلکنگر نے کہا، "مجھے امید ہے کہ یہ آخری حد ہے کہ امریکہ امداد معطل کر دے گا اور اسرائیل کی طرف سے اس جنگ کے طریقۂ کار میں تبدیلی لانے کے لیے بامعنی اقدام کرے گا۔"

فلکنگر نے کہا کہ بلنکن نے ان کے بیٹے کی ساتھی سینڈی لیکرک سے بھی بات کی جو اپنے 1 سالہ بیٹے جیسپر کی نگہداشت کے لیے رہ گئی ہیں۔

جیکب فلکنگر کے علاوہ تین برطانوی شہری، ایک آسٹریلوی، ایک پولش اور ایک فلسطینی ان حملوں میں ہلاک ہو گئے۔

جان فلکنگر نے اپنے بیٹے کو "پرکشش شخصیت کا حامل"، "محبت کرنے والا بیٹا، ایک سرشار اور نیا باپ اور اپنی شریکِ حیات کے لیے ایک بہت ہی پیار کرنے والا ساتھی" قرار دیا۔

جیکب فلکنگر کو بیرونی سرگرمیوں کے عاشق کے طور پر یاد کیا گیا جو بقا کی تربیتی مشقیں چلاتے اور کوہ پیمائی، چٹانوں پر چڑھنے اور دیگر مہماتی سرگرمیوں میں شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے تقریباً 11 سال کینیڈا کی مسلح افواج میں خدمات انجام دیتے ہوئے گذارے جس میں افغانستان میں آٹھ ماہ کا عرصہ بھی شامل ہے۔

بزرگ فلکنگر نے کہا کہ ان کا بیٹا جانتا تھا کہ غزہ جانا خطرناک تھا لیکن اس نے خاندان کے افراد سے اس پر تبادلۂ خیال کیا اور غزہ جہاں امدادی گروپوں کے مطابق لوگوں کو قحط کا سامنا ہے، وہاں فلسطینیوں کی مدد کی امید میں رضاکارانہ طور پر کام کیا۔

فلکنگر نے کہا، "اسے جس کام سے محبت تھی، وہی کرتے ہوئے دنیا سے گیا یعنی دوسروں کی خدمت اور مدد کرنا۔" بزرگ فلکنگر کا اپنا غیر منافع بخش ادارہ بریک تھرو میامی ایسے طلبا کو تعلیمی مواقع سے آگاہ کرتا اور کالج کے لیے تیار کرتا ہے جنہیں بہت کم نمائندگی ملتی ہے۔

ورلڈ سینٹرل کچن کے نمائندگان نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو اپنی نقل و حرکت اور اپنے قافلے کی موجودگی سے آگاہ کر رکھا تھا۔

اسرائیلی حکام نے ڈرون حملوں کو غلطی قرار دیا ہے اور جمعہ کو فوج نے کہا کہ اس نے دو افسران کو برطرف کیا اور تین دیگر کو ان کے کردار کے لیے سرزنش کی۔ فوج نے کہا کہ افسران نے اہم معلومات کو غلط طریقے سے استعمال کیا اورفوجی قواعد کی خلاف ورزی کی۔

لیکن جان فلکنگر نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ حملہ "امدادی کارکنان کو دھمکانے اور انسانی امداد کی روانی روکنے کی دانستہ کوشش تھی۔"

فلکنگر نے نوٹ کیا کہ ورلڈ سینٹرل کچن نے تب سے غزہ میں خوراک کی ترسیل بند کر دی ہے اور انہوں نے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل "خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔"

فلکنگر نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت خاندان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے اور کوسٹا ریکا جہاں یہ خاندان رہتا ہے، وہاں سے لیکرک اور جیسپر کو واپس کیوبیک صوبے میں منتقل کرنے کے لیے مالی مدد کی پیشکش کر رہی ہے تاکہ وہ خاندان کے قریب رہیں۔

فلکنگر نے کہا کہ ان کے بیٹے کی باقیات فلسطینی حکام کی جانب سے موت کے سرٹیفکیٹ کے اجراء تک قاہرہ میں موجود ہیں۔ یہ ہو جائے تو خاندان نے ان کو کیوبیک لے جانے کے انتظامات کیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں