اسرائیل رفح پر حملے سے باز رہے اور فوری جنگ بندی کا اہتمام کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس، مصر اور اردن کے رہنماؤں نے رفح پر اسرائیل کے امکانی حملے کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ یہ اسرائیل کی ایک بڑی جارحانہ کارروائی ہوگی۔ اس لیے اس سے گریز کیا جائے اور فوری طور پر غزہ میں جاری جنگ کو بند کیا جائے۔ یہ بات تینوں ملکوں کے رہنماؤں نے کئی اخبارات میں شائع ہونے والے مشترکہ ادارتی نوٹ میں کہی ہے۔

اس مشترکہ ایڈیٹوریل پر تینوں ملکوں کے رہنماؤں نے مل کر ایک آواز اٹھائی ہے۔ ایڈیٹوریل پر فرانس کے صدر عمانویل میکرون، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ تینوں کے دستخط ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'ہم خبردار کرتے ہیں کہ رفح پر اسرائیلی حملے کے بہت گہرے اور سنگین اثرات ہوں گے۔ جہاں پر 15 لاکھ سے زائد انسان رہ بس رہے ہیں اور ان کی حیثیت بےگھر پناہ گزینوں کی سی ہے۔ اگر اسرائیل نے اس علاقے پر کوئی حملہ کیا تو اس کا مطلب صرف انسانی تباہی اور مشکلات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ نیز اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور عدم استحکام کا خطرہ ہوگا۔

اس سے پہلے امریکہ بھی رفح پر ایسے کسی اندھا دھند حملے کی مخالفت کر چکا ہے۔ جبکہ اسرائیلی نیتن یاہو اب اس حملے کی تاریخ کے تعین کا بھی بتا رہے ہیں کہ ان کا ملک باقاعدہ حملے کے لیے تاریخ مقرر کر چکا ہے۔

فرانس، مصر اور اردن کے سربراہان نے اپنے مشترکہ ایڈیٹوریل میں اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری طور پر ایک ایسی قرارداد پیش کی جائے جو فوری جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی ہو اور جسے بغیر کسی التوا کے فوری طور پر بروئے کار لائیں۔ ان رہنماؤں نے اسرائیلی یرغمالیوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے جو سات اکتوبر سے مسلسل حماس کی قید میں ہیں۔

مشترکہ ادارتی متن میں تینوں رہنماؤں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ انسانوں کے لیے بڑی تباہی اور مصائب کا ذریعہ ہے۔ اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ واضح رہے یہ مشترکہ تحریر امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' ، فرانس کے 'لیمنڈے' اور اردن کے 'الرائے' کے علاوہ مصر کے 'الاہرام ' میں شائع ہوئی ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک اور امداد کی ترسیل میں اضافہ کیا جائے اور رکاوٹیں دور کی جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں