اسرائیل کی شامی فوج اور ایرانی ملیشیا کے زیر استعمال اسلحہ گودام پر شدید بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر میزائل داغے جانے کے جواب میں شام کے فوجی ٹھکانوں پر رات بھر بمباری کی۔

یہ حملہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنائے جانے کے چند دن بعد ہوا ہے، جس میں اہم ایرانی فوجی کمانڈر مارے گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ "جنگی طیاروں نے رات کے وقت محجہ قصبے میں شامی فوج کے فوجی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا۔ یہ علاقہ دونوں اطراف کو الگ کرنے والے غیر فوجی علاقے سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔

فوج نے مزید کہا کہ پیر کے روز اس نے بغیر کسی جانی نقصان کے شامی سرزمین سے داغے جانے والے ایک میزائل کا پتہ لگایا۔ جس کے بعد اس کے توپ خانے نے فائرنگ کے ٹھکانے پر گولہ باری کر کے جواب دیا۔ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ ’’اسرائیلی فضائی حملوں نے درعا کے شمالی دیہی علاقوں میں محجہ کے علاقے کو آج منگل کی صبح سویرے نشانہ بنایا۔ آبزرویٹری کے مطابق بمباری میں "حکومت کے اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا جن میں اس کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود موجود تھا۔

یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے نتیجے میں ایران کے کے دو کمانڈروں سمیت ایرانی پاسداران انقلاب کے سات ارکان مارے گئے تھے۔ یہ حملہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی، غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ تقریباً روزانہ فائرنگ کے تبادلے کے جلو میں کیا گیا۔

اسرائیل نے 1967میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس اقدام کو عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اسرائیل کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کے جنوبی سرائیل پر حملےمیں 1,170 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری شروع کی ہے جس میں بڑے پیمانے پر اموات ہوئی ہیں۔ غزہ جنگ کے چھ ماہ کے دوران 33,175 فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں