اسرائیل کے رفح پر زمینی حملے میں مزید پانچ لاکھ فلسطینیوں کی نقل مکانی کا اندازہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل رفح پر بڑے زمینی حملے سے نقل مکانی پر مجبور کیے جانے والے تقریبا پانچ لاکھ فلسطینیوں کو اپنی مرضی کی جگہ پر روکنے کے لئے40000 خیمے خرید رہا ہے۔ تاکہ چھ ماہ کے دوران دوسری بار نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد کو ان خیموں میں محدود رکھا جا سکے۔ یہ بات اسرائیلی حکومتی ذرائع نے منگل کے روز بتائی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں اسرائیلی ٹینڈر طلب کر لئی ہیں تاکہ خیمے فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنی پیش کشیں جمع کرا سکیں۔ ذرائع کے مطابق ایک خیمے میں اسرائیلی حکومت 12 افراد کو ٹھہرانے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔ یوں 40000 خیموں میں 480000 فلسطینی جمع کئے جا سکیں گے۔ یہ اہتمام اسرائیلی وزارت دفاع کے ذمہ ہوگا اور فوجی نگرانی میں ہوگا۔ وزارت دفاع کی ایک ویب سائٹ نے اس بارے میں رپورٹ بھی کیا ہے۔

اسرائیلی سرکاری ذرائع نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' کے ساتھ گفتگو میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ خیموں کی خرید داری کے لئے ٹینڈر طلب کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

واضح رہے رفح میں می اس وقت 15 لاکھ سے زائد فلسطینی غزہ کی پٹی سے بے گھر ہو کر پناہ لئے ہوئے ہیں۔ یہ سب اسرائیلی فوج کے زمینی حملے کی زد میں آنے والے ہیں۔

ادھر وزیر اعظم اسرائیل نیتن یاہو نے دو روز قبل اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے رفح پر حملے کی تاریخ بھی مقرر کر لی ہے۔ یہ اسرائیلی پختہ ارادہ اس کے باوجود ہے کہ اسرائیل کو دنیا بھر سے رفح پر حملے سے روکنے کی بات کی جارہی ہے۔عالمی برادری پہلے سے ہوچکی 33360 فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں مزید ہزاروں ہلاکتوں کا تیزی سے اضافہ نہیں چاہتی ہے۔ کیونکہ عالمی برادری ہی نہیں اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی امریکہ بھی رفح پر حملے کو انسانی تباہی کے مترادف سمجھتا یے۔ نہ صرف یہ بلکہ خود اسرائیلی سلامتی کے لئے بھی اس کو خطرناک قرار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں