جنگ بندی کے لیے اسرائیل کی نئی تجویز کو مسترد کردیا: حماس

چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی، 900 فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کی تجویز تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کی جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ایک نئی پیش رفت میں وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ حماس اس وقت پیش کی گئی ایک نئی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ثالثوں نے نئی تجویز حماس کو دی تاہم حماس نے فوری طور پر اس نئی تجویز کو مسترد کر دیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے ہفتے کے آخر میں قاہرہ کا دورہ کیا تاکہ غزہ میں حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سنجیدہ بات چیت کی جا سکے۔

کربی نے کہا امریکہ بات چیت کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور امید کرتا ہے کہ قیدیوں کی جلد از جلد رہائی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچ جائے گا کیونکہ اس سے تقریباً چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی بھی ہو جائے گی۔

انہوں نے بتایا اتوار کو 300 سے زیادہ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے۔ وائٹ ہاؤس اسرائیل پر دباؤ ڈالتا رہے گا کہ وہ فلسطینی پٹی میں مزید انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دے۔

اسرائیل کے مجوزہ رفح آپریشن متعلق کربی نے کہا اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ شہر میں کوئی بڑا زمینی آپریشن قریب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رفح آپریشن کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ نئی بات چیت کے لیے کوئی تاریخ مخصوص نہیں ہے۔

اسرائیلی تجویز مسترد

دوسری جانب حماس کے رہنما علی برکۃ نے بتایا کہ حماس نے جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں مذاکرات کے دوران اسرائیل کی طرف سے پیش کی گئی تازہ تجویز کو مسترد کر دیا۔ حماس کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس تین مرحلوں میں 6 ہفتوں تک کی جنگ بندی کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ جس کے پہلے مرحلے میں 900 فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کی جائے گی۔

مذاکرات کے قریبی ذرائع جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا نے یہ بھی بتایا کہ تجویز کے پہلے مرحلے میں بے گھر فلسطینی شہریوں کی شمالی غزہ کی پٹی میں واپسی کا بھی کہا گیا۔ روزانہ 400 سے 500 کے درمیان امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دینے کی بات بھی کی گئی۔

مشکل لیکن ممکنہ معاہدہ

دریں اثنا اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے غزہ میں خاص طور پر حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی حل تک پہنچنے کی ضرورت پر بات کی ہے۔

یائر لاپڈ نے العربیہ اور الحادث کے نمائندے کو بھی بلنکن کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ قیدیوں کے لیے معاہدہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ پیر کو ایک عرب ذریعے نے بتایا تھا کہ امریکہ قاہرہ میں اس وقت ہونے والے مذاکرات میں حماس اور اسرائیل کو چند دنوں کے اندر جنگ بندی پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ذرائع نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو مزید بتایا کہ امریکہ نے مصر اور قطر سے حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے کہا ہے۔ واشنگٹن اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ قیدیوں کے تبادلے اور چھ ہفتے کی جنگ بندی کا معاہدہ کرے۔

بڑی پیشرفت

قاہرہ نیوز چینل نے پیر کو ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی پر بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تمام جماعتوں کے درمیان یہ معاہدہ بنیادی محور پر طے پا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں