فلسطین اسرائیل تنازع

قاہرہ جنگ بندی مذاکرات : حماس نے نئی تجاویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حماس نے چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی نئی تجاویز سامنے آنے پر ان کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ تجاویز میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کی بدلے میں رہائی کی تجویز بھی شامل ہے۔ حماس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ تجاویز قاہرہ میں ہونے والے جنگی بندی مذاکرات کے دوران سامنے آئی ہیں۔

اسرائیل ان دنوں اپنے سب سے بڑے اتحای امریکہ سمیت کئی دوسرے ملکوں کی طرف سے سخت دباؤ میں ہے کہ وہ جنگ بندی پر اتفاق کرے۔ حتیٰ کہ اسے اس مسلسل جنگی سلسلے میں اب تک اسلحہ سپلائی کرنے والے ملکوں کی طرف سے بھی جنگ بندی کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

حماس کے مذاکرات سے متعلق قریبی ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ قاہرہ میں ہونے والے حالیہ مذاکراتی عمل کے دوران سامنے آنے والی نئی تجایوز پر حماس کی قیادت غور کر رہی ہے۔ ان تجاویز میں ڈیڑھ ماہ کے لیے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی اور اس کے بدلے میں 900 فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا 'جنگ بندی کی صورت میں پہلا مرحلہ ان بےگھر اور نقل مکانی پر مجبور کر دیے گئے غزہ کے فلسطییوں کا اپنے علاقوں اور گھروں میں واپس آنا ہوگا۔ نیز یومیہ بنیادوں پر 400 سے 500 کی تعداد میں ٹرک امدادی سامان اور خوراک کے ساتھ غزہ میں داخل ہو سکیں گے۔ جہاں اس وقت اقوام متحدہ نے اعلان کر رکھا ہے کہ غزہ کو قحط کا خطرہ ہے۔

دریں اثناء جب مذاکراتی عمل جاری تھا تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو یہ انتباہ کر رہے تھے کہ اسرائیل نے رفح میں فوجی حملے کے لیے تیاری مکمل کر لی ہے اور حملے کی تاریخ کا تعین کر لیا ہے۔

نیتن یاہو کے مطابق طے شدہ تاریخ کے تحت فوجیں رفح پر حملہ شروع کریں گی۔ تاہم یاہو نے ویڈیو بیان میں اس بارے میں کسی متعین تاریخ کا ذکر نہیں کیا کہ یہ کون سی تاریخ ہوگی۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا 'حماس پر فتح حاصل کرنے کے لیے رفح پر حملہ بہت ضروری ہے۔'

خیال رہے رفح میں اس وقت 15 لاکھ کے قریب بےگھر فلسطینی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں سے یہاں جمع ہیں اور رفح کا یہ چھوٹا سا شہر انتہائی گنجان آباد پناہ گاہ کے طور پر فلسطینیوں کے لیے موجود ہے۔ رفح پر حملے کی صورت فلسطینیوں کے لیے مزید کسی پناہ گزینی کی جگہ نظر نہیں آ رہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کے بعد عالمی رہنماؤں اور انسانی بنیادوں پر یقین رکھنے والے ادارے الرٹ ہوئے ہیں۔ امریکہ نے اپنا مؤقف دہرایا ہے کہ رفح پر اسرائیلی حملے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ شہری آبادیوں کا بہت زیادہ نقصان اور تباہی ہوگی بلکہ یہ خود اسرائیلی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہوگا۔

ایک دن پہلے ہی اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوبی علاقوں سے اپنی فوج کے انخلاء کا اعلان کیا ہے۔ خصوصاً خان یونس شہر سے فوج کو نکالنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم اس اعلان میں کہا گیا تھا کہ جنوبی غزہ میں اب اسرائیلی فوج صرف ایک پل پر موجود ہے۔

ام احمد الفغاوی نے جذبات سے مغلوب لہجے میں کہا کہ جو کچھ انہوں نے دیکھا ہے وہ غیرمعمولی طور پر حیران کن رہا ہے۔ ہر گھر تباہ ہوچکا ہے۔ ہمارا ہی نہیں آس پاس کے تمام پڑوسیوں کے گھر بھی تباہ ہوچکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ کے دوران 33207 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباری کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 38 ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں