’’دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر حملے کا جواب تہران اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر گذشتہ ہفتے کئے جانے والے حملے کے جواب میں اسرائیل پر کوئی بھی ایرانی حملہ ممکنہ طور پر خطے میں تہران کے ایجنٹوں کے ذریعے کیا جائے گا اور ایران براہ راست اس حملے میں حصہ نہیں لے گا۔

دونوں ذرائع نے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس تخمینوں سے پتا چلتا ہے کہ ایران نے اپنے وفادار مسلح گروپوں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈرون اور میزائلوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر حملہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ اس ہفتے جلد از جلد ہو سکتا ہے

ان میں سے ایک ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی کہ "خطرہ بہت واضح اور قابل اعتبار ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "انھوں نے ابھی حملہ کرنے کے لیے انتظامات کر لیے ہیں۔ وہ صرف صحیح وقت کا انتظار کر رہے ہیں"۔

کسی بڑے فساد کا خدشہ

انہی ذرائع نے کہا کہ ایران اور اس سے منسلک گروپ کشیدگی میں اضافے کے خوف سے خطے میں امریکی افواج پر حملہ کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ اُنھوں نے نشاندہی کی کہ تہران کو ایک بڑی کشیدگی کا خدشہ ہے اور وہ واشنگٹن یا اس کے اتحادیوں کو براہِ راست حملہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں دینا چاہتا۔

دمشق میں شامی قونصل خانہ
دمشق میں شامی قونصل خانہ

ہائی الرٹ

قابل ذکر ہے کہ امریکی حکام نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ یکم اپریل کو دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے متعدد کمانڈروں کی ہلاکت کا جواب دینے کے تہران کے اعلانات کے بعد امریکہ اور اسرائیل ہائی الرٹ پر ہیں۔

ایک سینئر امریکی اہلکار نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور خطے میں اس کے اڈے دمشق حملے کے جواب میں اسرائیلی یا امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے والے ممکنہ ایرانی حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ "امریکی ٹیمیں تب سے مسلسل رابطے میں ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک ایران سے آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے میں اسرائیل کی مکمل حمایت کرتا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں