اسرائیلی حکومت کے سینیر وزرا جنگ بندی کے خلاف ووٹ کیوں دیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے مؤقرعبرانی اخبار’ہارٹز‘نے بدھ کے روز ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی منی سکیورٹی کابینہ کے سینیر وزرا غزہ میں جنگ بندی کے ایسےکسی معاہدے کے خلاف ووٹ دیں گے جس میں تمام زندہ قیدیوں کی رہائی شامل نہ ہو۔

اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزراء کا خیال ہے کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے بدلے یہ آخری جنگ بندی معاہدہ ہو گا اور مستقبل میں اسی طرح کے معاہدوں پر عمل درآمد تقریباً ناممکن ہے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی ذرائع کے مطابق وزراء حماس کے ساتھ ایک مرحلے کے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں چاہے قیمت زیادہ ہو"۔

40 یرغمالیوں کی رہائی؟

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی نشریاتی ادارے نے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی کی نئی تجویزکی منظوری کا امکان ابھی دور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 40 سے کم قیدیوں کو رہا کرنا چاہتی ہے۔ یہ تعداد اسرائیل کی شرائط پر پوری اترتی ہے۔

مذاکرات میں اسرائیل ایک ہی وقت میں زیرحراست چالیس قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ حماس نے اعتراض کیا ہے جس کے بعد یہ معاملہ اس مسئلے میں اختلاف کا بنیادی مرکز اور ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نےبتایا کہ حماس کے پاس مغویوں کی اتنی تعداد موجود ہے جو جنگ بندی کے پہلے مرحلےمیں رہائی پانے والوں کی تعداد کو پوری کرسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں